BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 June, 2005, 16:00 GMT 21:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اینتھراکس:انڈونیشیا کاسفارتخانہ بند
اینتھراکس
سفارتخانے کے بائیس اہلکاروں کو دیگرلوگوں سےعلیحدہ رکھا جا رہا ہے
آسٹریلیا میں انڈونیشیا کے سفارتخانے کو بند کر دیا گیا ہے۔ سفارت خانے کی عمارت میں ایک پیکٹ موصول ہوا ہے جس میں بیکٹیریا بھرے ہوئے ہیں۔ بیسیلس نامی بیکٹیریا کا تعلق بیکٹیریا کی اسی برادری سے جس میں اینتھراکس بھی شامل ہے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایک آسٹریلوی خاتون کو انڈونیشیامیں منشیات سمگل کرنے کے الزام میں بیس سال قید کی سزاسنائے جانے کی وجہ سے پورے آسٹریلیامیں انڈونیشیا کے خلاف جذبات عروج پر ہیں۔

سزا پانے والی خاتون شپیل کوربی نے سماعت کے دوران خود کو بے قصور کہا تھا اور انہوں نے مذکورہ سزا کے خلاف بدھ کو اپیل بھی دائر کی ہے۔

ایک سروے کے مطابق نوے فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ وہ استغاثہ کی بجائےمس کوربی کی بات پر یقین کرتے ہیں۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم جون ہوورڈ نے کہا ہے کہ سفارتخانے میں موصول ہونے والے بیکٹیریا کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔

آسٹریلیا کے ٹیلی ویژن چینل نائں سے بات کرتے ہوئے انہوں نےکہا ’یہ کوئی بے ضرر پاؤڈر نہیں ہے۔ یہ ایک قسسم کا بائیلوجیکل ایجنٹ ہے۔ میں سائنسدان نہیں ہوں لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ پاؤڈر بیسیلس کی قسم کا بیکٹیریا ہے۔

وزیراعظم ہوورڈ نے اس واقعہ پر انڈونیشیا سے معافی مانگی ہے اور کہا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ انڈونیشیا میں زیادہ تر لوگ یہی سوچیں گے یہ واقعہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے لیے نقصاندہ ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس واقعہ سے مس کوربی کے مقدمہ پر بھی اچھےاثرات نہیں مرتب ہوں گے۔

واضح رہے کہ بیسیلس قسم کے زیادہ تر بیکٹیریا بے ضرر ہوتے ہیں لیکن ان کی ایک قسم انسانوں اور جانوروں میں اینتھراکس کے جراثیم پیدا کر سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق انڈونیشیا کے سفارتخانے نے اس بات کی تصدیق کی ہے انہیں کئی دھمکی آمیز پیغام مل رہے ہیں اور انہوں نےسفارتخانے میں حفاظتی انتظامات سخت تر کر دیے ہیں۔

News image
مس کوربی الزام کی صحت سےانکار کرتی رہی ہیں۔

آسٹریلیا کے وزیر خارجہ نے پارلیمان میں ایک بیان میں کہا ہے انڈونیشیا کے سفارتخانہ کو کچھ عرصہ کے لیے بند رہنا ہوگا جبکہ اس کے عملے کے بائیس افراد کو کم از کم اڑتالیس گھنٹے کے لیے دیگر لوگوں سے الگ رہنا ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن لوگوں کو مس کوربی سے ہمدردی ہےان کو چاہیے کہ وہ اپنی توانائیاں انڈونیشیا کو برا بھلا کہنے میں صرف کرنے کی بجائے مس کوربی کی قانونی طور پر مدد کرنے میں لگائیں۔

واضح رہے کہ مس کوروبی کا مؤقف یہ ہے کہ جب گذشتہ برس ان کو بالی کے ہوائی اڈے سے چار کلوگرام منشیات کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا تو اس سے پہلے ان کے سامان کے ساتھ گڑ بڑ کی گی تھی۔

آسٹریلیا میں زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اب سیاحت کے لیے بالی نہیں جائیں گے۔

گذشتہ اکتوبر میں بم دھماکے کے بعد انڈونیشیا کے جزیرے بالی کو سیاحوں میں کمی کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد