انڈونیشیا: ابو بکر بشیر رہا ہو گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کی شدت پسند تنظیم جماعہ اسلامیہ کے رہنما ابوبکر بشیر کو دو سال بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ ابوبکر بشیر کو بالی بم دھماکے کی منصوبہ بندی کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔بالی کے ایک نائٹ کلب میں ہونے والے طاقتور بم دھماکے میں دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ابوبکر بشیر جب جکارتہ کی جیل سے باہر آئے تو ان کےحامیوں کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی جو ان کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے۔ انڈونیشیا کی انٹیلیجنس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ابو بکر شاید اب بھی شدت پسند تنظیم جماعہ اسلامیہ کے سربراہ ہیں مگر ابوبکر بشیر جماعہ اسلامیہ کے وجود کی تردید کرتے ہیں۔ انڈنیشیا کے حکام کو خدشہ ہے کہ ابوبکر بشیر کے جیل سے باہر آنے سے ملک میں شدت پسندی کو ہوا ملے گی۔
پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے جان ہارورڈ نے کہا کہ وہ انڈونیشیا کے سیاستدانوں کو ایک پیغام دینا چاہتے ہیں۔’’میں اپنی اور آسٹریلیا کے عوام کی طرف سے انہیں بتانا چاہتوں ہوں کہ ابو بکر بشیر کی رہائی سے ہم کس قدر ’شدید مایوس‘ ہیں، بلکہ ’کرب سے گزر رہے‘ ہیں۔‘‘ بالی دھماکوں میں مرنے والے دو سو دو افراد میں سے اٹھاسی کا تعلق آسٹریلیا سے تھا۔ جکارتہ میں امریکی سفاتخانے کے ایک ترجمان نے بھی کہا کہ امریکہ ابوبکر بشیر کو دی جانے والی قید کی سزا کی مدت سے ’شدید مایوس‘ ہوا ہے۔ انڈونیشیا کی پولیس کا کہنا ہے کہ ابو بکر بشیر شدت پسند تنظیم جماعہ اسلامیہ کے رہنما ہیں جنہوں نے بالی بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کی تھی اور دھماکہ کرنے والے شخص نے ان سے اجازت مانگی تھی۔ | اسی بارے میں بالی: انسداد دہشت گردی اجلاس 04 February, 2004 | آس پاس بالی بم دھماکہ: غیر قانونی سزائیں؟ 23 July, 2004 | آس پاس اپنے راستے پر چلتا رہوں گا: ابو بکر10 March, 2004 | آس پاس بالی بم دھماکے جائز تھے:سمدرا09 September, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||