BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 June, 2006, 02:30 GMT 07:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈونیشیا: ابو بکر بشیر رہا ہو گئے
ابو بکر بشیر
ابو بکر بشیر کو چھبیس ماہ بعد جیل سے رہا کیا گیا ہے۔
انڈونیشیا کی شدت پسند تنظیم جماعہ اسلامیہ کے رہنما ابوبکر بشیر کو دو سال بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

ابوبکر بشیر کو بالی بم دھماکے کی منصوبہ بندی کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔بالی کے ایک نائٹ کلب میں ہونے والے طاقتور بم دھماکے میں دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ابوبکر بشیر جب جکارتہ کی جیل سے باہر آئے تو ان کےحامیوں کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی جو ان کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے۔

انڈونیشیا کی انٹیلیجنس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ابو بکر شاید اب بھی شدت پسند تنظیم جماعہ اسلامیہ کے سربراہ ہیں مگر ابوبکر بشیر جماعہ اسلامیہ کے وجود کی تردید کرتے ہیں۔

انڈنیشیا کے حکام کو خدشہ ہے کہ ابوبکر بشیر کے جیل سے باہر آنے سے ملک میں شدت پسندی کو ہوا ملے گی۔

آسٹریلیا کا ردعمل
 میں اپنی اور آسٹریلیا کے عوام کی طرف سے انہیں بتانا چاہتوں ہوں کہ ابو بکر بشیر کی رہائی سے ہم کس قدر ’شدید مایوس‘ ہیں، بلکہ ’کرب سے گزر رہے‘ ہیں۔
وزیراعظم جان ہاورڈ
ادھر آسٹریلیا نے ابوبکر بشیر کی رہائی پر خفگی کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم جان ہاورڈ نے کہا ہے کہ ان کی رہائی آسٹریلوی عوام کے لیے ’کربناک‘ ہو سکتی ہے۔

پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے جان ہارورڈ نے کہا کہ وہ انڈونیشیا کے سیاستدانوں کو ایک پیغام دینا چاہتے ہیں۔’’میں اپنی اور آسٹریلیا کے عوام کی طرف سے انہیں بتانا چاہتوں ہوں کہ ابو بکر بشیر کی رہائی سے ہم کس قدر ’شدید مایوس‘ ہیں، بلکہ ’کرب سے گزر رہے‘ ہیں۔‘‘

بالی دھماکوں میں مرنے والے دو سو دو افراد میں سے اٹھاسی کا تعلق آسٹریلیا سے تھا۔

جکارتہ میں امریکی سفاتخانے کے ایک ترجمان نے بھی کہا کہ امریکہ ابوبکر بشیر کو دی جانے والی قید کی سزا کی مدت سے ’شدید مایوس‘ ہوا ہے۔

انڈونیشیا کی پولیس کا کہنا ہے کہ ابو بکر بشیر شدت پسند تنظیم جماعہ اسلامیہ کے رہنما ہیں جنہوں نے بالی بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کی تھی اور دھماکہ کرنے والے شخص نے ان سے اجازت مانگی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد