بالی دھماکے: ملزمان اپیل کریں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں سن دو ہزار دو میں ہونے والے بم دھماکوں کے ملزمان کے وکیل نے کہا کہ وہ ان کے خلاف سنائی جانے والی سزائے موت کے خلاف اپیل کریں گے۔ وکیل صفائی محمد مہندرادتا نے کہا کہ اپیل بائیس اگست کو سزائے موت پر عملدرآمد کی مقررہ تاریخ سے پہلے دائر کی جائے گی۔ یہ واضح نہیں کہ اپیل دائر ہونے سے ممکنہ سزا میں کتنی تاخیر ہو گی۔ بالی میں بم دھماکوں کے بعد تین افراد امروزی، علی اور امام سمدرا کو سن دو ہزار تین میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ بم دھماکوں کے نتیجے میں دو سو دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امروزی اور امام سمدرا نے اکتوبر دو ہزار پانچ میں کہا تھا کہ وہ معافی نہیں مانگیں گے اور اطلاعات کے مطابق انہوں نے استغاثہ سے کہا تھا کہ وہ سزائے موت کے لیئے تیار ہیں۔ وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ وہ اس بنیاد پر اپیل کریں گے کہ کسی شخص کو کسی واقعے کے بعد میں بنائے جانے والے قانون کے تحت سزا نہیں سنائی جا سکتی۔ | اسی بارے میں بم بنانے میں مدد: عمر قید کی سزا29 January, 2004 | آس پاس بالی بم دھماکے جائز تھے:سمدرا09 September, 2004 | آس پاس بالی دھماکے: عالمی سطح پرمذمت02 October, 2005 | آس پاس بالی میں خود کش حملے ہوئے: پولیس 02 October, 2005 | آس پاس بالی: ایک کروڑ ڈالر کا انعام07 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||