بالی: ایک کروڑ ڈالر کا انعام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے تین سال قبل بالی میں ہونے والے دھماکوں میں ملوث ایک مشتبہ شخص کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے کے لئے ایک کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کیا ہے۔ اس مشتبہ شخص کا نام دولماتین بتایا گیا ہے جو الیکٹرانِکس اسپیشلِسٹ ہے اور اسلامی شدت پسند تنظیم جماعۃ اسلامیہ کا سینیئر رکن ہے۔ دو ہزار دو میں بالی میں ہونے والے بم دھماکوں میں دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ گزشتہ ہفتے بالی میں ہونے دھماکے کے لئے بھی جماعۃ اسلامیہ ذمہ دار ہے۔ دولماتین کے بعد سب سے زیادہ انعام جن کے سر پر رکھاگیا ہے وہ صرف اسامہ بن لادن اور ابو مصعب الزرقاوی ہیں جن پر فی فرد ڈھائی کروڑ ڈالر کا انعام ہے۔ دولماتین کا اصلی نام عمر عثمان ہے اور وہ ملیشیا کا رہنے والا ہے۔ دولماتین پر شک ہے کہ اسی نے دو ہزار دو میں بالی میں موبائل فون کے ذریعے بموں کو اڑایا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ دولماتین نے ایک اور ملیشیائی شہری اظہری حسین کے ساتھ ملکر دھماکہ خیز مواد اور ایک کار بم تیار کیا جسے بالی میں ایک خودکش بمبار نے استعمال کیا۔ دولماتین کی عمر چالیس سال سے کم ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فلپائن میں کہیں روپوش ہے۔ اس پر افغانستان میں القاعدہ کے کیمپ میں تربیت حاصل کرنے کا بھی شک ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے جماعۃ اسلامیہ کے ایک اور رکن عمر پاتیک کے سر پر ایک ملین ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ عمر پاتیک پر بھی دو ہزار دو کے بالی بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے کہا: ’امریکہ ان افراد کو ان کے جرائم کے لئے انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے ہر کوشش کرے گا۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||