بالی بمباروں کی موت قریب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنہ دو ہزار دو میں ہونے والے بالی بم دھماکوں میں موت کی سزا پانے والے تین افراد کو نومبر کے اوائل میں فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے ہلاک کر دیا جائے گا۔ امام سمدرا، امروزی اور مخلاس کو، جنہیں علی غفران کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، بالی میں ہونے والے بم دھماکوں کے سلسلے میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ وہ بالی کے سیاحتی علاقے کٹا میں نائٹ کلبوں پر ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث پائے گئے تھے۔ شدت پسند گروہ جیمہ اسلامیہ پر ان حملوں کا الزام تھا۔ جمعہ کو کیا جانے والا اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ان تینوں کے لیے کی جانے والی کئی اپیلیں مسترد کی جا چکی ہیں۔
انڈونیشیا کے اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری ہوونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امروزی، علی غفران اور امام سمدرا کی سزا پر نومبر کے شروع میں عمل درآمد ہو گا۔‘ ان تینوں کو انتہائی سکیورٹی کی جیل نساکمبانگن میں رکھا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ انہیں وہاں ہی پھانسی دی جائے گی۔ جکارتہ میں بی بی سی کی نامہ نگار لوسی ولیمسن کا کہنا ہے کہ بہت کم انڈونیشیائی ہیں جو ان افراد کی حمایت کرتے ہیں لیکن ان افراد کو پھانسی دینا جو کہتے ہیں کہ وہ اسلامی اقدار کی حفاظت کر رہے تھے یقیناً کچھ جذبات ضرور بھڑکائے گا۔ | اسی بارے میں بالی بم دھماکہ: ایک کو سزا05 September, 2006 | آس پاس خلافت کی بحالی کے لیے بڑا اجتماع13 August, 2007 | آس پاس بالی بم دھماکے: مبینہ سرغنہ گرفتار15 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||