BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بالی بمباروں کی موت قریب
امروزی
امروزی کو ’مسکراتا ہوا بمبار‘ بھی کہا جاتا ہے
سنہ دو ہزار دو میں ہونے والے بالی بم دھماکوں میں موت کی سزا پانے والے تین افراد کو نومبر کے اوائل میں فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے ہلاک کر دیا جائے گا۔

امام سمدرا، امروزی اور مخلاس کو، جنہیں علی غفران کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، بالی میں ہونے والے بم دھماکوں کے سلسلے میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

وہ بالی کے سیاحتی علاقے کٹا میں نائٹ کلبوں پر ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث پائے گئے تھے۔

شدت پسند گروہ جیمہ اسلامیہ پر ان حملوں کا الزام تھا۔

جمعہ کو کیا جانے والا اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ان تینوں کے لیے کی جانے والی کئی اپیلیں مسترد کی جا چکی ہیں۔

امام سمدرا اور امروزی
خدشہ ہے کہ ان کی موت کے بعد ملک میں مظاہرے ہوں گے

انڈونیشیا کے اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری ہوونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امروزی، علی غفران اور امام سمدرا کی سزا پر نومبر کے شروع میں عمل درآمد ہو گا۔‘

ان تینوں کو انتہائی سکیورٹی کی جیل نساکمبانگن میں رکھا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ انہیں وہاں ہی پھانسی دی جائے گی۔

جکارتہ میں بی بی سی کی نامہ نگار لوسی ولیمسن کا کہنا ہے کہ بہت کم انڈونیشیائی ہیں جو ان افراد کی حمایت کرتے ہیں لیکن ان افراد کو پھانسی دینا جو کہتے ہیں کہ وہ اسلامی اقدار کی حفاظت کر رہے تھے یقیناً کچھ جذبات ضرور بھڑکائے گا۔

اسی بارے میں
بالی بم دھماکہ: ایک کو سزا
05 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد