BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 August, 2007, 11:40 GMT 16:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خلافت کی بحالی کے لیے بڑا اجتماع

کانفرنس
کانفرنس سے دنیا بھر سے آنے والے مقررین نے خطاب کیا
انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ہزاروں مسلمانوں نے جمع ہو کر اسلامی خلافت کے تحت واحد اسلامی سلطنت کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔

بنیاد پرست اسلامی تنظیم حزب التحریر کے زیرِ اہتمام جکارتہ کے فٹ بال سٹیڈیم میں ہونے والی ایک اسلامی کانفرنس میں ایک لاکھ سے زائد افراد جمع ہوئے، جن میں خواتین کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔

اس کانفرنس سے دنیا بھر سے آئے مقررین نے خطاب کیا۔ شرکاء نے ایسے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر اسلامی خلافت کی بحالی کے لیے نعرے درج تھے۔

جکارتہ سٹیڈیم میں مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد میں جمع ہونے کا مقصد پوری دنیا میں صرف ایک متحد اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ تھا۔

کانفرنس کی منتظم جماعت حزب التحریر کا منشور اسلامی خلافت کی بحالی ہے اور اسے بیشتر ممالک میں کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کانفرنس میں شرکت کے لیے چند اہم غیر ملکیوں کو انڈونیشیا کے حکام نے ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔

شرکاء
کانفرنس میں لوگوں کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت تنظیم کی کامیابی کی علامت ہے

کانفرنس میں ایک چوبیس سالہ نوجوان اکبر بھی شامل تھے جو حزب التحریر کے رکن نہیں ہیں لیکن اس کانفرنس کے بارے میں وہ کہتے ہیں ’یہ کانفرنس کسی ایک گروپ کے لیے نہیں ہے۔ میرے خیال میں اگر آپ انڈوینشیا میں شرعی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں تو آپ کو اس کانفرنس میں ضرور شامل ہونا چاہیئے‘۔

حزب التحریر کی اراکین دو طالبات یانی اور وشنو کا کہنا تھا کہ وہ اسلام اور خلافت دونوں کی حمایت کے لیے اس کانفرنس میں شریک ہوئی ہیں۔ وشنو کہتی ہیں ’میں حزب التحریر میں اس لیے شامل ہوئی کیونکہ یہ باقی تمام اسلامی تنظیموں کی نسبت زیادہ متحد ہے‘۔

اگرچہ یہ کانفرنس ایسے لوگوں کا اجتماع تھا جن کے نظریات انڈونیشیا میں جمہوری طریقے سے منتخب کی گئی حکومت کو گرا کر نئی شرعی حکومت بنانے کی عکاسی کرتے ہیں، لیکن کانفرنس کے مقررین میں دین شمس الدین بھی شامل تھے جو حکومت کی حمایت اور انڈونیشیا کی دوسری بڑی اسلامی جماعت محمدیہ کے سربراہ ہیں۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ نظریاتی اختلافِ رائے رکھنے کے باوجود ان کی اس اسلامی کانفرنس میں شمولیت کی کیا وجہ ہے تو انہوں نے کہا ’میرے خیال میں جمہوری نظام ٹھیک تو ہے لیکن کافی نہیں۔ انڈونیشیا میں ایسی جمہوریت ہونی چاہیئے جو مذہبی اور اخلاقی اقدار کی ترجمان بھی ہو‘۔

غیر معمولی جمہوریت
 ’چونکہ اس ملک کے عوام کی اکثریت مذہبی لوگوں پر مشتمل ہے چنانچہ یہاں پر ’لبرل ڈیموکریسی‘ یعنی آزاد خیال جمہوریت کی بجائے ’ان کامن ڈیموکریسی‘ یعنی غیر معمولی جمہوریت کی ضرورت ہے جس کی بنیاد مذہبی اقدار پر ہو۔ مذہبی اقدار سے یہ مراد ضروری نہیں کہ یہ اسلامی اقدار ہوں
دین شمس الدین، حکومت کے حلیف

دین شمس الدین نے مزید کہا ’چونکہ اس ملک کے عوام کی اکثریت مذہبی لوگوں پر مشتمل ہے چنانچہ یہاں پر لبرل ڈیموکریسی یعنی آزاد خیال جمہوریت کی بجائے ان کامن (غیر معروف) ڈیموکریسی کی ضرورت ہے، جس کی بنیاد مذہبی اقدار پر ہو۔ مذہبی اقدار سے یہ مراد ضروری نہیں کہ یہ اسلامی اقدار ہوں‘۔

کانفرنس سے قبل اس کے مقاصد کے بارے میں کئی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ حزب التحریر کا دعویٰ ہے کہ وہ انتہا پسند تنظیم نہیں ہے، نہ تو اس کا کوئی عسکری دھڑا ہے اور نہ ہی اس نے کبھی کوئی پرتشدد کارروائی کی ہے۔

حزب التحریر کو اس کے منشور، سخت گیر ایجنڈے اور بھرتی کے خفیہ طریقوں کی وجہ سے کافی مخالفت کا سامنا ہے۔

چھ سال سے حزب التحریر کے رکن خالد نے بتایا کہ انہوں نے طالبِ علمی کے زمانے میں اس جماعت کی رکنیت اختیار کی۔ ان کے بقول پارٹی کی تعلیمات نے ان کی مغرب کے متعلق سوچ کو تبدیل کر دیا۔

ذہنی انقلاب کی سیاست
شرکاء
 ’حزب التحریر سوچ کو بدلنے کا طریقہ استعمال کرتی ہے اور ہم اسے ’ذہنی انقلاب‘ کہتے ہیں۔ جب کسی کو اسلام کے اندازِ فکر کی تعلیم دی جاتی ہے تو اس شخص میں خود بہ خود ہی ذہنی انقلاب آتا ہے اور وہ اچھے اور برے کو سمجھنا شروع کر دیتا ہے
خالد، حزب التحریر کے رکن

انہوں نے کہا ’وقت کے ساتھ خیالات بدل جاتے ہیں۔ میرا ایمان ہے کہ جب مسلمانوں پر حملہ کیا جائے تو اپنا دفاع ان کا حق ہے، لیکن ہمیں اس صورت میں مغربی شہریوں پر حملہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں اگر وہ ہم پر پہلے حملہ نہ کریں‘۔

خالد نے مزید کہا ’حزب التحریر سوچ کو بدلنے کا طریقہ استعمال کرتی ہے اور ہم اسے ’ذہنی انقلاب‘ کہتے ہیں۔ جب کسی کو اسلام کے اندازِ فکر کی تعلیم دی جاتی ہے تو اس شخص میں خود بہ خود ہی ذہنی انقلاب آتا ہے اور وہ اچھے اور برے کو سمجھنا شروع کر دیتا ہے‘۔

حزب التحریر نے اپنے اراکین کی تعداد کبھی عیاں نہیں کی تاہم گروپ سے منسلک چند اہم لوگوں کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اس کی رکنیت ملنے میں کئی سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

انڈونیشیا کی دیگر اسلامی تحریکوں کی نسبت حزب التحریر اراکین کی بڑی تعداد کی بجائے کم مگر لگن سے بھرپور اراکین میں دلچسپی رکھتی ہے اور بیشتر اراکین کا تعلق معاشرے کے تعلیم یافتہ درمیانے درجے کے طبقے سے بتایا جاتا ہے۔

یہ تنظیم صرف انڈونیشیا میں پچھلے سات سال سے کھلم کھلا سرگرمِ عمل ہے اور اس کانفرنس میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی حزب التحریر کی کامیابی کی علامت ہے۔

حزب التحریر کی بنیاد 1950 میں یروشلم میں ایک فلسطینی مذہبی عالم تقی الدین الّنبہانی نے رکھی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا سمیت اس تنظیم کے دفاتر چند مغربی ممالک بھی ہیں جن میں برطانیہ بھی شامل ہے۔

زرکارسیہبالی دھماکے: بڑا ملزم
بالی دھماکوں میں ملوث گروہ کا ’سرغنہ‘ گرفتار
انور حسینآچے کا سندھی
انور کیوں اب دوبارہ گھر تعمیر کرنا نہیں چاہتا؟
فیض پر مشاعرہبند آچے میں فیض
آچے میں مشاعرہ فیض احمد فیض کے نام
اندینہاسکارف،اوڑھنی،دوپٹہ
انڈونیشیا کے مقابلۂ حسن میں سر ڈھانپنے کی اجازت
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد