جکارتہ میں حزب التحریر کا اجتماع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں اسلامی گروپ حزب التحریر کے زیرِ انتظام ایک بین الاقوامی کانفرنس میں ساٹھ ہزار کے قریب مذہبی علماء اور کارکن شرکت کر رہے ہیں۔ حزب التحریر کا دعویٰ ہے کہ یہ اب تک دنیا بھر میں ہونے والی اسلامی کارکنوں کی سب سے بڑی کانفرنس ہے۔ حزب التحریر تنظیم کا منشور اسلامی خلافت کی بحالی ہے اور اسے بیشتر ممالک میں کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کانفرنس میں شرکت کے لیے چند اہم غیر ملکی کارکنوں کو انڈونیشیا کے حکام نے ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ اگرچہ حزب التحریر پرامن تحریک کی علمبردار ہے مگر بین الاقوامی سطح پر کئی مبصرین اس کے جہادی گروپوں کے ساتھ تعلقات کا شبہ ظاہر کرتے ہیں۔ ناقدین اس تنظیم کو خفیہ، شدت پسند اور انتہائی منظّم قرار دیتے ہیں اور اس پر مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے بیشتر ممالک میں کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔
جکارتہ میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ کانفرنس ایک سٹیڈیم میں منعقد کی جا رہی ہے اور 60000 لوگوں میں عورتوں کی بہت بڑی تعداد بھی شامل ہے جو ملک کے مختلف حصوں سے اس کانفرنس میں شرکت کے لیے پہنچی ہیں۔ حزب التحریر کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک سے آنے والے پانچ میں سے تین مقررین کانفرنس میں شرکت نہیں کر سکے۔ منتظمین کے بقول آسٹریلیا اور برطانیہ سے آنے والے دو مقررین کو امیگریشن حکام نے جکارتہ ائیر پورٹ سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جبکہ ایک فلسطینی مقرر فلسطین سے روانہ نہیں ہو سکے۔ اس کانفرنس سے انڈونیشیا کے متنازعہ مذہبی رہنما ابو بکر بشیر نے کوخطاب کرنا تھا لیکن پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے خدشات کے پیشِ نظر انہوں نے خطاب نہیں کیا۔ حزب التحریر کی بنیاد 1950 میں یروشلم میں ایک فلسطینی مذہبی عالم تقی الدین الّنبہانی نے رکھی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا سمیت اس تنظیم کے دفاتر چند مغربی ممالک بھی ہیں جن میں برطانیہ بھی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں بالی بم دھماکے: مبینہ سرغنہ گرفتار15 June, 2007 | آس پاس انڈونیشیا: شدت پسند لیڈر گرفتار13 June, 2007 | آس پاس انڈونیشیا: ابو بکر بشیر رہا ہو گئے14 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||