انڈونیشیا: شدت پسند لیڈر گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسلامی شدت پسند گروہ جماعہ اسلامیہ کے مبینہ لیڈر ابو دجانہ کو حراست میں لے لیا ہے۔ اس گروہ پر 2002 میں بالی میں ہونے والے دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ابو دجانہ انڈونیشیا میں سب سے زیادہ مطلوب اسلامی شدت پسند ہیں۔ انہیں سنیچر کے روز جاوا کے وسط میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر حراست میں لیا گیا تھا لیکن پولیس نے بدھ کو ان کی گرفتاری کی تصدیق کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابو دجانہ مختلف نام استعمال کرتے ہیں اس لیے فنگر پرنٹ اور ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ہی ان کی گرفتاری کی تصدیق کی گئی ہے۔ ان کے ساتھ مزید چھ شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا کی سکیورٹی فورسز کی انڈونیشیا میں شدت پسندوں کے خلاف یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ جماعہ اسلامیہ پر بالی کے دھماکوں میں ملوث ہونے کے علاوہ اور بہت سی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزم ہے، جن میں 2004 میں جکارتہ میں آسٹریلیا کی ایمبیسی پر حملہ اور اس سے ایک برس قبل جکارتہ میں ہی میریٹ ہوٹل کے باہر ایک گاڑی میں دھماکے میں ملوث ہونے کے الزامات شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ابو دجانہ ان مذکورہ کارروائیوں میں پولیس کو مطلوب تھے۔ حال ہی میں پولیس چیف مقبل پڈمنیگرا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابو دجانا نے نور دین محمد کی جگہ لے لی ہے۔ نور دین محمد ملیشیا کے باشندے ہیں جنہیں انڈونیشیا میں کئی بم دھماکوں میں ملوث پایا جاتا ہے اور وہ سب سے زیادہ مطلوب لوگوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ابو دجانہ سے پولیس بالی، جکارتہ اور جزیرہ سلاویسی میں مختلف مقامات پر ہونے والے دھماکوں اور کارروائیوں سے متعلق تفتیش کرے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ان سے ایک ایسے مقام جس کا پولیس نے نام نہیں بتایا پر حملوں کی منصوبہ بندی کے سلسلسے میں بھی سوالات کرے گی۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ابو دجانہ سے جماعہ اسلامیہ کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں اور ان کی گرفتاری اس تنظیم کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ثابت ہوگی۔ پولیس کے ترجمان نے کہا کہ ’اس گرفتاری کے بعد ہم نے کامیابی کے ساتھ ملک میں مستقبل میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کو روک دیا ہے‘۔ اس گروہ پر تحقیق کرنے والے ایک اعلٰی تجزیہ نگار سڈنی جونز نے کہا کہ ’ یہ پولیس کی بہت بڑی جیت ہے‘۔ سڈنی جونز نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ اگر ابو دجانا پولیس سے بات کرتے ہیں تو ان سے اس گروہ کے مقاصد، بین الاقوامی تعلقات، طاقت اور مالی ذخائر کا پتہ لگایا جا سکتا ہے‘۔ ابو دجانہ سے متعقق واضح معلومات کا پتہ لگانا مشکل ہے لیکن پولیس کا ماننا ہے کہ انہوں نے 1989 میں افغانستان میں عسکری تربیت حاصل کی اور بعد میں مجاہدین کے ساتھ لڑائی میں بھی شامل رہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وہ چند سال قبل ہی جماعہ اسلامیہ کے لیڈر بنے تھے۔ | اسی بارے میں بالی دھماکے:’ابوبکر بشیر ملوث نہیں‘21 December, 2006 | آس پاس بالی بم دھماکہ: ایک کو سزا05 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||