جہادی رہنما کو پندرہ سال قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا میں خود کو جمعیہ اسلامیہ کا سربراہ کہلوانے والے شخص ابو دجانہ کو پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ابو دجانہ کو جکارتہ میں انسداد دہشت گردی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پرایک طویل مقدمے کے بعد یہ سزا سنائی گئی ہے۔ ان پر دہشت گردوں کی مدد کرنے اور اسلحہ اور ہتھیار رکھنے، انہیں سٹور کرنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے الزامات ہیں۔ جامعیہ اسلامیہ پر جنوب مشرقی ایشیا میں بم حملے کرانے کے الزامات ہیں۔ جن میں بالی کے دھماکے بھی شامل ہیں۔ بالی کے بم حملے میں دو سو سے زیادہ افراد جن میں سے اکثریت غیرملکیوں کی تھی اس وقت ہلاک ہوگئے تھے جب بالی کے پُر ہجوم نائٹ کلب کو بم کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
ابو دجانہ کو گزشتہ سال جون میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کی گرفتاری کو انڈونیشیا کی اسلامی شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں ایک اہم فتح قرار دیا گیا تھا۔اور پولیس نے اس وقت کہا تھا کہ ابو دجانہ انڈونیشیا میں ہونے والے تقریبا تمام بم حملوں میں ملوث ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ابودجانہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے جہاد کی تربیت افغانستان سے حاصل کی ہے اور القاعدہ سے ان کے قریبی تعلقات ہیں۔ دی ساؤتھ جکارتہ ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج واہجونو نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’ابودجانہ قانونی اور ہر لحاظ سے دہشت گردی کے جرائم میں ملوث پایے گئے ہیں۔ جج نے فیصلے میں جامعیہ اسلامیہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جو کہ انڈونیشیا کی کسی بھی عدالت کی طرف سے اس قسم کا پہلا فیصلہ ہے۔ | اسی بارے میں بالی بم دھماکہ: ایک کو سزا05 September, 2006 | آس پاس خلافت کی بحالی کے لیے بڑا اجتماع13 August, 2007 | آس پاس بالی بم دھماکے: مبینہ سرغنہ گرفتار15 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||