بالی کے جہادی، امن کے سفیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ناصر عباس مشرقی جکارتہ کے سپی نینگ جیل کے گرے کلر کے بڑے گیٹ سے طوفانی بارش سے بچتے ہوئے تیزی سے داخل ہوئے۔ چشمہ لگائےصاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس اڑتیس سال کے اس جوان کو دیکھنے سے کوئی بھی اس غلط فہمی کا شکار ہو سکتا ہے کہ کہ وہ کوئی مصروف وکیل ہیں اور جیل میں قید اپنے کسی موکل سے انہیں ملنے میں دیر ہوگئی ہے۔ درحقیقت عباس جو کہ ہتھیار بنانے کے ماہر ہیں اور جہادی تنظیم جمیعہ اسلامیہ سے تعلق رکھتے ہیں ، جیل میں اپنے ان پرانے ساتھیوں سے ملاقات کے لیے جا رہے ہیں جو کہ جہادی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہوئے دہشت گردی میں ملوث پائے گئے ۔ عباس کا کہنا ہے کہ ’یہ میرے دوست ہیں اور میرے شاگرد بھی، ان میں سے کچھ کی تربیت میں نے خود کی ہے۔ میں ان تمام جیلوں کا دورہ کرچکا ہوں جہاں دہشت گردی میں ملوث افراد قید ہیں۔، مگر عباس یہاں کسی نئے حملے کی منصوبہ بندی کے لیے نہیں آئے بلکہ اپنے دوستوں کو اپنا حوالہ دے کر شدت پسندی کو ترک کرنے کی ترغیب دے سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہمیں معصوم شہریوں کو قتل نہیں کرنا چاہیے ۔آج مجھے احساس ہوا ہے کہ میرے چند ساتھیوں کو غلط کاموں کی ترغیب دی گئی ہے اور میرا مشن اب ان کے ذہنوں کو کھولنا ہے۔، عباس کو انڈونیشیا کی پولیس کے ساتھ جیلوں میں ’ انتہا پسندی کی روک تھام کی مہم ،میں تعاون کرتے ہوئے پانچ سال ہوگئے ہیں ۔ عباس کی بہن کی شادی ایک شخص مخلص سے ہوئی ہے جن کا شمار ان تین افراد میں سے ہے، جن کواس خوفناک حملے میں ملوث ہونے کی وجہ سے موت کی سزا ہو چکی ہے۔ عباس کا کہنا ہے کہ ’میں نے کبھی اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ ’معصوم شہریوں کو قتل کیا جائے میں نے ان کو فوجی بننے کی تربیت دی۔، ’لیکن مجھے اس جرم کا احساس ہوتاہے کہ انہوں نے میرے سکھائے گئے علم کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا اس لیے اب ان کو سمجھانا بھی میری ذمہ داری ہے۔، جیل کے اندر عباس صحافیوں کے ساتھ نظر آنےسے ہچکچا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا کام بہت وقت لینے والا، مشکل اور خطرناک ہے۔ ’ ان میں سے کچھ مجھے غدار اور کافر کہہ کر پکارتے ہیں،یہاں تک کہ مجھے موبائل پر دھمکیوں والے پیغامات بھی ملتے رہتے ہیں ۔میری جان خطرے میں ہے مگر مجھے کوئی ڈر نہیں۔، عباس نے مزید بتایا کہ’ جیل میں قیدیوں سے ان کی ملاقاتوں کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں حالانکہ اس سے قبل یہی جیلیں شدت پسندوں کی بھرتیوں کے اڈے مانے جاتے ہیں۔، ان کا کہنا تھا کہ میری پہلی ملاقات کے بعد ان قیدیوں کے اذہان میں شکوک آتے ہیں لیکن دوسری ملاقات میں ان کا رویہ دوستانہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اب ہر روز ایک نیا قیدی مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے۔، ایک سابقہ قیدی سلامت ،جس نے ایک بم حملے کی تیاری کے الزام میں تین سال قید کاٹی ،نے اپنےدوست کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ غدار نہیں ہیں، وہ اپنے دوستوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں ۔ہم تشدد کے ذریعے کیسے کسی کو اسلام کی طرف راغب کر سکتے ہیں۔، جبکہ ایک اور قیدی پا اذنگ جو کہ سات سال سے بم بنانے والے ایک بدنام مجرم کو پولیس سے چھپانے کے جرم میں قید ہیں،کا کہنا تھا کہ یہ لوگ غدار ہیں لیکن انہوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ عباس اپنے مقصد میں کچھ آگے بڑھے ہیں۔ ’یہ لوگوں کو ڈالر دے کر اپنے عقیدے سے دور لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں اور کمزور لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اللہ ان سے حساب لے گا۔، عباس کا کہنا تھا کہ پا آڈنگ ان کو پسند نہیں کرتے ۔ ان کو یہ بھی فکر تھی کہ ایک اہم شخصیت ہونے کی بناء پر پا آڈنگ کچھ زیادہ سخت مؤقف نہ رکھنے والے قیدیوں کو ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک سلسلہ ہے ان میں سے کچھ جلدی مان جاتے ہیں اور کچھ کو وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور میرے خیال سے وقت سے زیادہ پیسہ چاہیے۔
ایک پولیس ترجمان کا کہناتھا کہ انتہا پسندی ترک کرنےکی مہم کے سلسلے میں انڈونیشیا کی پولیس ان قید جہادیوں کے خاندان کے افراد کو ملازمتیں ڈھونڈنے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔، جہادی تنظیم جمیعہ الاسلامیہ کی ایک ماہرہ سڈنی جونزکا کہنا تھا کہ بات اس سے کافی آگے نکل چکی ہے کیونکہ انہوں نے اب سکول کی فیسیں اور چاول فراہم کرنا بھی شروع کر دیے ہیں۔ سڈنی جونز نے بتایا کہ’ لوگوں کی رائے تبدیل کرنے کے لیے مذہبی مباحثے سے زیادہ پولیس کی طرف سے معاشی امداد زیادہ مددگار ہوتی ہے جو کہ ناصر فراہم کرتے ہیں۔، ’اس کا ایک سادہ سا اصول ہے کہ یہ لوگ جو کہ پولیس کو اپنے دشمن کےطور پر دیکھتے ہیں جب پولیس اہلکاروں سے مالی امداد وصول کرتے ہیں تو انہیں اپنی سوچ تبدیل کرنی پڑتی ہے۔، عباس نے اس بات کی وضاحت ذرا مختلف انداز میں کی ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ جو کہ پہلے ہی ناراض ہیں انہیں مزید غصہ مت دلائیں ۔ان کی تربیت غلط کی گئی ہے۔اس لیے ان کو سمجھنے کی کوشش کریں۔، پولیس حکام عباس کے تعاون سے بہت خوش نظر آتے ہیں۔ عباس اپنے کام کو ’میرا نیا جہاد ، کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میرا مشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یہ تشدد بند نہیں کر دیتے۔‘ |
اسی بارے میں خلافت کی بحالی کے لیے بڑا اجتماع13 August, 2007 | آس پاس بالی بم دھماکے: مبینہ سرغنہ گرفتار15 June, 2007 | آس پاس انڈونیشیا: 400 افراد ابھی تک لاپتہ01 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||