BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 January, 2007, 15:23 GMT 20:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈونیشیا: 400 افراد ابھی تک لاپتہ
خراب موسم کی وجہ سے امدای کاموں میں مشکلات پیش آرہی ہیں
انڈونیشیا کے جزیرے جاوا کے قریب جمعہ کو ڈوبنے والے بحری جہاز میں سوار تقریباً چار سو افراد ابھی تک لاپتہ ہیں جبکہ اطلاعات کے مطابق دو سو کے قریب افراد کو ڈوبنے سے بچا لیا گیا ہے۔

انڈونیشیا کی بحریہ کا کہنا ہے کہ خراب موسم اور سمندر کی صورت حال کی وجہ سے امدادی کاموں میں روکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔

تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مچھلیاں پکڑنے والی کشتیاں ڈوبنے والے افراد کو پانی سے باہر نکالنے کا کام کر رہی ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس حادثے کے حوالے سے مقامی انتظامیہ کے ردعمل سے لوگوں میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے اور اطلاعات ہیں کہ حکام متاثرہ افراد کے رشتہ داروں سے تعاون نہیں کر رہے ہیں۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ڈوبنے والے بحری جہاز کا ملبہ ابھی تک نہیں ملا ہے۔

ڈوبنے والے جہاز میں سوار لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے

حادثے کا نشانہ بننے والا بحری جہاز ہفتے کی صبح انڈونیشیا کے دو جزیروں جاوا اور بورنیو کے درمیان سفر کے دوران طوفان آنے کی وجہ سے ڈوب گیا تھا۔ اس جہاز پر 600 افراد سوار تھے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ جہاز جکارتہ کے شمال مشرق میں تقریباً تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر ڈوبا۔

ابتداء میں مقامی پولیس کے سربراہ نے بتایا تھا کہ جہاز میں سفر کرنے والوں کی فہرست کے مطابق اس میں صرف دو سو افراد سوار تھے جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔

انڈونیشیا میں بحری جہاز اور کشتیاں ملک کے سترا ہزار جزائر کے درمیان سفر کا سستا اور مقبول ذریعہ ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق ان بحری جہازوں میں احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا جاتا اور گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کر لیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد