انڈونیشیا: 400 افراد ابھی تک لاپتہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کے جزیرے جاوا کے قریب جمعہ کو ڈوبنے والے بحری جہاز میں سوار تقریباً چار سو افراد ابھی تک لاپتہ ہیں جبکہ اطلاعات کے مطابق دو سو کے قریب افراد کو ڈوبنے سے بچا لیا گیا ہے۔ انڈونیشیا کی بحریہ کا کہنا ہے کہ خراب موسم اور سمندر کی صورت حال کی وجہ سے امدادی کاموں میں روکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔ تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مچھلیاں پکڑنے والی کشتیاں ڈوبنے والے افراد کو پانی سے باہر نکالنے کا کام کر رہی ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس حادثے کے حوالے سے مقامی انتظامیہ کے ردعمل سے لوگوں میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے اور اطلاعات ہیں کہ حکام متاثرہ افراد کے رشتہ داروں سے تعاون نہیں کر رہے ہیں۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ڈوبنے والے بحری جہاز کا ملبہ ابھی تک نہیں ملا ہے۔
حادثے کا نشانہ بننے والا بحری جہاز ہفتے کی صبح انڈونیشیا کے دو جزیروں جاوا اور بورنیو کے درمیان سفر کے دوران طوفان آنے کی وجہ سے ڈوب گیا تھا۔ اس جہاز پر 600 افراد سوار تھے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ جہاز جکارتہ کے شمال مشرق میں تقریباً تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر ڈوبا۔ ابتداء میں مقامی پولیس کے سربراہ نے بتایا تھا کہ جہاز میں سفر کرنے والوں کی فہرست کے مطابق اس میں صرف دو سو افراد سوار تھے جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ انڈونیشیا میں بحری جہاز اور کشتیاں ملک کے سترا ہزار جزائر کے درمیان سفر کا سستا اور مقبول ذریعہ ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق ان بحری جہازوں میں احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا جاتا اور گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کر لیا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں انڈونیشیا میں مسافر طیارہ لاپتہ01 January, 2007 | آس پاس انڈونیشیا: بیشتر مسافر محفوظ18 April, 2006 | آس پاس انڈونیشیا: سینکڑوں ہلاکتوں کا خدشہ30 December, 2006 | آس پاس انڈونیشیا: 151 لوگ بچا لیے گئے31 December, 2006 | آس پاس انڈونیشیا زلزلے میں کئی افراد ہلاک27 May, 2006 | آس پاس جاوا:مرنے والوں کی تعداد 580031 May, 2006 | آس پاس انڈونیشیا:طیارہ تباہ، 130 ہلاک 05 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||