انڈونیشیا: سینکڑوں ہلاکتوں کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا میں ایک بحری جہاز ڈوبنے سے کم از کم پانچ سو افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ یہ بحری جہاز ہفتے کی صبح انڈونشیا کے جزیروں جاوا اور بورنیو کے درمیان سفر کے دوران طوفان آنے سے ڈوبا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ جہاز جکارتہ کےشمال مشرق میں قریباً تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر ڈوبا۔ علاقے میں تیز لہروں اور طوفانی ہواؤں کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ تاہم اب تک سو سے زائد افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ متعدد مسافروں کو کھلے سمندر میں مچھلیاں پکڑنے کے لیے موجود چھوٹی کشتیوں نے بچایا جبکہ عینی شاہدین نے کچھ افراد کو لائف بوٹس پر سوار بھی دیکھا ہے۔ مقامی پولیس کے سربراہ نے بتایا ہے کہ جہاز میں سفر کرنے والوں کی فہرست کے مطابق اس بحری جہاز میں صرف دو سو افراد سوار تھے لیکن اصل میں یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ انڈونیشیا میں بحری جہاز اور کشتیاں ملک کے سترہ ہزار جزائر کے درمیان سفر کا سستا اور مقبول ذریعہ ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق ان بحری جہازوں میں احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا جاتا اور گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کر لیا جاتا ہے۔ اس حادثے کے بارے میں جب انڈونشیا کے بحری افسران سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ رات کو تقریبًا بارہ بجے کے بعد جہاز کے عملے نے کوسٹ گارڈز سے رابطہ کرکے ان کو بتایا کہ ان کا جہاز بے قابو ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امدادی کارروائیوں کا آغاز صبح ہوتے ہی کر دیا گیا تھا لیکن تیز ہواؤں اور طوفان کی وجہ سے ان میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ | اسی بارے میں سونامی ہلاکتیں 520 تک جاپہنچیں19 July, 2006 | آس پاس سونامی میں 300 ہلاک، درجنوں لاپتہ18 July, 2006 | آس پاس جاوا:مرنے والوں کی تعداد 580031 May, 2006 | آس پاس امدادی کارروائیوں میں مشکلات29 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||