کوالالمپور: بے یارومددگار پاکستانی نوجوان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی نوجوانوں کا ایک گروپ جو باسٹھ افراد پر مشتمل ہے کوالالمپور کی ایک مسجد میں بے سرو سامان پڑا ہواہے، یہاں یہ لوگ پہلی دفعہ نہیں آئے بلکہ اکثر اوقات یہ مسجد بے سروسامان پاکستانیوں سے بھری رہتی ہے۔ ان نوجوانوں کے پاس کھانے کیلئے رقم نہیں ہے، اپنے گھر واپس پاکستان جانے کا کرایہ نہیں ہے اور انہیں پولیس کا ڈر ہے کہ کہیں یہ گرفتار ہوکر سلاخوں کے پیچھے نہ سڑتے رہیں۔ ملائشیا کی جیلوں میں اذیت رسانی کے اپنے طریقے ہیں جن میں سب سے اذیت ناک سزا یہ ہے کہ یہاں قیدی کو سونے نہیں دیا جاتا۔ ہر قیدی کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزانہ سو عدد مکھیاں پکڑے۔ جب تک وہ سو مکھیاں نہیں پکڑے گا سوئے گا نہیں کیونکہ مکھیاں پوری نہ ہونے کی صورت میں قیدی پر تشدد لازمی ہے۔ ہاں جو قیدی نگران کی مٹھی گرم کر دے تو نگران اس کو کوئی میٹھی چیز لا دے گا۔ پریشان نہ ہوں، یہ میٹھی چیز قیدی کے کھانے کے لیے نہیں بلکہ مکھیوں کی دعوت کیلئے ہوتی ہے تاکہ قیدی جلد مکھیاں پوری کرلے اور اپنی نیند پوری کر سکے۔ یہ ان پاکستانی نوجوانوں کی کہانی ہے جنہیں دیارِ غیر میں اعلیٰ روزگار کے خواب دکھائے گئے اور ان سے آٹھ سے دس لاکھ روپے فی کس وصول کیے گئے۔اتنی خطیر رقم کے بندوبست کے لیے کسی نے اپنی ماں کا زیور بیچا، کسی نے بہن کی شادی کےلیے جمع کی ہوئی رقم ٹھکانے لگائی تو کسی کے باپ نے کوڑی کوڑی جوڑ کر اور قرض لے کر اپنے لختِ جگر کو اعلیٰ مستقبل کی تلاش میں سمندر پار بھیج دیا۔
کراچی، لاہور، گوجرانوالہ ،گجرات اور خدا جانے کن کن علاقوں میں انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد ان سادہ لوح نوجوانوں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کو ملائشیا میں اعلیٰ مستقبل کا جھانسہ دیتے ہیں یا پھر ان نوجوانوں کو براستہ ملائشیا، انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھجوانے کا خواب دکھاتے ہیں۔ انسانی سمگلر آدھی رقم پاکستان میں وصول کر لیتے ہیں اور باقی منزل مقصود پر پہنچ کر ادا کرنے کا وعدہ ہوتا ہے۔ ان نوجوانوں کو کراچی سے کوالالمپور لیجایا جاتا ہے۔ کچھ دن کسی تیسرے درجہ کے ہوٹل میں رکھا جاتا ہے جس کے بعد انہیں بتایا جاتا ہے ابھی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جانے میں دیر اسلئے ہے کہ آجکل سختی بہت ہے۔ اس وقت تک ان نوجوانوں کا ملائشیا کا ویزا ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ اسی دوران کئی نوجوانوں کا سودا کسی فیکٹری کے ساتھ کر دیا جاتا ہے۔ یہ افراد اب غیر قانونی طور پر ملائشیا میں رہ رہے ہوتے ہیں لہٰذا ان نوجوانوں کو گرفتاری سے ڈرا کر فیکٹریوں سے باہر آنے سے روک دیا جاتا ہے اور چمکتے دمکتے کوالالمپور میں یہ فیکٹریاں ان مجبور نوجوانوں کے لیے خرکار کیمپ ثابت ہوتی ہیں۔ تنخواہ صرف اتنی ملتی ہے کہ بمشکل زندہ رہ سکیں۔
فیکٹریوں میں بھیجنے سے پہلے ان نوجوانوں کی ساری پونجی بمعہ ٹکٹ چھین لی جاتی ہے۔ جو نوجوان سخت جان ہوتے ہیں اور فیکٹریوں میں بیگار سے انکار کر دیتے ہیں وہ کوالالمپور کی مخصوص مساجد میں ڈیرا ڈال دیتے ہیں۔ مسجد میں رہنے کا ایک فائدہ تو یہ ہے یہاں پولیس چھاپہ نہیں مارتی اور دوسرے کوئی نہ کوئی درد مند روٹی دے جاتا ہے یا پھر کچھ نوجوان چھپ چھپا کر چھوٹی موٹی نوکری کرلیتے ہیں اور رات کو مسجد آ کر سوجاتے ہیں۔ اس سارے المیہ کوحکومت پاکستان اور اس کا ملائشیا میں موجود سفارتخانہ ایک خاص نظر سے دیکھتا ہے۔ کسی بھی ملک میں سفارتخانے کا بنیادی مقصد اس ملک میں موجود اپنے شہریوں کودرکار سہولتیں بہم پہنچانے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ کوالالمپور میں موجود پاکستانی سفارتخانے کا کہنا یہ ہے یہ نوجوان غیر قانونی طور پر یہاں آتے ہیں، اپنے ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں لہٰذا یہ نوجوان کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ہیں۔ مجھے یہ ساری باتیں گزشتہ ہفتہ اس وقت معلوم ہوئیں جب میں نے جاوا، سماٹرا جاتے ہوئے کچھ وقت ملائشیا میں پیننگ اور کوالالمپورکے شہروں میں گزارا۔ یہ باتیں ان بے بس لوگوں کی زبانی ہیں اور کسی کا نام اس لیے نہیں لکھا کہ لوگ نہیں چاہتے کہ ان کے گھر والوں کو ’وطن‘ میں یہ پتہ چلے کہ وہ کس کسمپرسی کی حالت میں رہ رہے ہیں۔ کئی ایک کے لیے یہ ’عزت کا مسئلہ‘ ہے۔ | اسی بارے میں کینیڈا: پاکستانیوں کے انتخابی معرکے19 October, 2006 | آس پاس ’اب ہمارا تو یہی وطن ہے‘18 May, 2006 | آس پاس بش کے امیگریشن پروگرام پر اختلاف16 May, 2006 | آس پاس امریکہ: تارکین وطن کا بائیکاٹ ڈے 01 May, 2006 | آس پاس غیرقانونی تارکین وطن کی ملک بدری21 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||