BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 October, 2006, 17:08 GMT 22:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کینیڈا: پاکستانیوں کے انتخابی معرکے

عدنان ہاشمی اور عشرت نسیم
عدنان ہاشمی اور عشرت نسیم کی سیاسی جنگ تھانہ کچہری تک پہنچ گئی ہے۔
کینیڈین صوبے اونٹاریو میں اس سال نومبر کے مہینے میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لیے میدان میں اترنے والے پاکستانی نژاد کینیڈین امیدواروں کی انتخابی جنگ عروج پر پہنچ گئی ہے۔

ٹورانٹو کے نواحی شہر مسی ساگا سے، جہاں پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے، پہلی مرتبہ بہت سے امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ان انتخابات کی دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی نژاد امیدوار پاکستانی نژاد امیدواروں کے خلاف ہی انتخابات لڑ رہے ہیں۔

مسی ساگا شہر کی نئی قائم کردہ وارڈ 10 کی بلدیاتی ریس میں تئیس امیدوار میدان میں اترے ہیں جن میں سے دو پاکستانی نژاد امیدواروں کے درمیان سیاسی لڑائی نے پاکستانی سیاست کی یاد تازہ کر دی ہے۔ دونوں امیدوار کینیڈا سے اخبارات بھی شائع کرتے ہیں۔

ان امیدواروں، عدنان ہاشمی اور عشرت نسیم، کے درمیان ہونے والی سیاسی جنگ اب تھانہ کچہری تک پہنچ گئی ہے۔ اس جنگ کا چرچا کینیڈا کے مین سٹریم میڈیا میں شروع ہوگیا ہے۔ تمام کینیڈین ریڈیو اور ٹی وی چینلز پاکستانی نژاد کینیڈین امیدواروں کی اس جنگ کو نمایاں طور پر نشر کر رہے ہیں۔

بلدیاتی امیدوار عدنان ہاشمی کی مخالف امیدوار عشرت نسیم نے الزامات لگائے ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ درج ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مقامی کمیونٹی اخبار کاروان کی مدیر اور ریڈیو ہوسٹ عشرت نسیم نے پولیس کو رپورٹ درج کراتے ہوئے یہ الزام لگایا ہے کہ اتوار کے روز عدنان ہاشمی نے اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ ان کی رہائش گاہ میں گھس کر اپنے آپ کو پولیس افسر ظاہر کیا اور ان کے مالک مکان پر زور زبردستی کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ لکھ کر دیں کہ عشرت نسیم مسی ساگا کے اس گھر میں نہیں رہتی ہیں، بلکہ وہ برامپٹن کی رہائشی ہیں جس کی وجہ سے انہیں نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

مسی ساگا کے ایک وارڈ سے تئیس امیدوار حصہ لے رہے ہیں
مقامی پولیس نے عدنان ہاشمی کو پولیس افسر ظاہر کرنے اور خاتون کے گھر میں بلااجازت داخل ہونے کے الزامات میں چارج کیا ہے جس کے ثابت ہونے کی صورت میں انہیں چھ ماہ قید اور دو ہزار ڈالر جرمانے کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے ۔

اردو ہفت روزہ ’سنڈے ٹائمز‘ کے ایڈیٹر عدنان ہاشمی اور ان کے وکیل نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ بےگناہ ہیں اور انہیں کینیڈین قانونی نظام پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ ان الزامات سے بری ہوجائیں گے۔

واضح رہے کہ وارڈ 10 سے اس وقت کل تئیس امیدوار حصہ لے رہے ہیں جن میں عدنان ہاشمی اور عشرت نسیم کے علاوہ فیصل جاوید بھی شامل ہیں جن کا تعلق پاکستان سے ہے۔

اس سے قبل ایک اور پاکستانی نژاد امیدوار متانت خان نے عدنان کے حق میں اپنی دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا جس کی وجہ کمیونٹی کی جانب سے دباؤ بتایا جاتا ہے۔ مگر چند ہفتے قبل ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں متانت خان کی دستبرداری کے وقت عشرت نسیم نے متانت خان کے اس فیصلے کے بعد عدنان ہاشمی کی بھرپور حمائت کا اعلان کیا تھا۔

کینیڈین ذرائع ابلاغ میں چرچہ
 ان امیدواروں، عدنان ہاشمی اور عشرت نسیم، کے درمیان ہونے والی سیاسی جنگ اب تھانہ کچہری تک پہنچ گئی ہے۔ اس جنگ کا چرچا کینیڈا کے مین سٹریم میڈیا میں شروع ہوگیا ہے۔ تمام کینیڈین ریڈیو اور ٹی وی چینلز پاکستانی نژاد کینیڈین امیدواروں کی اس جنگ کو نمایاں طور پر نشر کر رہے ہیں۔
عشرت نسیم نے اس امر کی تردید کی ہے کہ وہ اس وارڈ سے لڑنے کی اہل نہیں ہیں۔

پولیس رپورٹ کے مطابق عدنان ہاشمی اور محمد باجوہ عشرت نسیم کے مسی ساگا کے گھر میں داخل ہوئے جو کہ غیرقانونی قرار دیا جا رہا ہے۔

عدالت نے عدنان ہاشمی اور ان کے وکیل کو نومبر کی سولہ تاریخ کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ عدنان کے وکیل فرحان جاوید کا کہنا ہے کہ ان کے کلائنٹ عدنان اس معاملے میں باعزت طور پر بری ہونا چاہتے ہیں جس کا انہیں مکمل بھروسہ ہے اور وہ بلدیاتی الیکشن کی ریس میں بدستور شامل رہیں گے۔

ٍفرحان جاوید نے بتایا کہ عدنان ہاشمی نے بلدیہ میں باقاعدہ طور پر اس امر کی شکایت درج کرا دی ہے کہ عشرت نسیم مسی ساگا کے اس حلقے میں رہائش پذیر نہیں ہیں اور انہوں نے ایک جعلی ایڈرس کے ذریعے اپنے کاغذات جمع کروائے ہیں۔ سٹی کونسل اس امر کی تحقیقات کر رہی ہے۔

عدنان ہاشمی نے بھی اپنے اس عزم کو دہرایا کہ انہیں اپنی کامیابی کا مکمل یقین ہے اور عشرت نسیم اصل میں برامپٹن کی رہائشی ہوتے ہوئے مسی ساگا کا جعلی ایڈریس استعمال کر رہی ہیں جس کی وجہ سے انہیں امید ہے کہ انہیں نااہل قرار دے دیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد