میکین کی بش پالیسی پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار جان مکین نے صدر بش کے آٹھ سالہ دور حکومت پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔ جمعرات کے روز انتپخابی مہم کے دوران نیو ہمیپشائر سے اوہائيو سفر کے دوران اخبار 'واشنگٹن ٹائمز' کو انٹرویو دیتے ہوۓ جان میکین اپنی ہی پارٹی کے صدر بش کی کئي پالیسیوں کو سخت تنقیدی حملوں کا نشانہ بنایا۔ سینٹر جان مکین نے بش انتظامیہ پر حکومتی اختیارات کے ناجائز استعمال سمیت کئي الزامات بھی لگاۓ ہیں۔ انہوں نے صدر بش کے آٹھ سالہ دور میں امریکی خزانے اور ٹیکس دہنگان کے پیسوں سے کیے گئے اخراجات، عراق جنگے، حکومتی سائیز میں توسیع، امریکہ کی آنیوالی نسلوں پر دس ٹریلین (کھرب) ڈالر کا قرضہ، جس میں پانچ سو بلین ڈالر چین کو واجب الادا ہیں جیسے مسائل کے حوالے سے صدر بش پر تنقید کی۔ سینیٹر جان مکین نے ایک سوال کے جواب میں اس تاثر کو رد کیا ہے کہ وہ صرف ان ووٹروں کے ووٹ جیتيں گے جو سیاہ صدر کو ووٹ نہیں دینا چاہتے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ صدر بش کی پالیسیوں سے شدید اختلاف کا عندیہ جان مکین نے ڈمیوکریٹک پارٹی کے امیدوار سینیٹر باراک اباما سے اپنی آخری صدارتی مباحثے کے دوران دیا تھا جس میں انہوں نے صدر بش سے فاصلہ رکھنے کی کوشش کی تھی۔ اب وے کھل کر سامنے آ گۓ ہیں۔ لیکن ریپبلکن پارٹی کے مخالف مبصرین کا کہنا ہے کہ جان مکین صدر بش کی پالسیوں سے خود کو الگ رکھ رہے ہیں کیونکہ موجودہ صدر کی بہت سے پالیسیوں نے ریپبلیکن پارٹی کو شکست سے ممنکہ طور ہمکنار کیا ہوا ہے۔ |
اسی بارے میں ڈکٹیٹر کی حمایت نہیں کرنا:اوبامہ08 October, 2008 | آس پاس اوبامہ مکین سے دس پوائنٹس آگے13 October, 2008 | آس پاس اوبامہ: سارہ پیلن کا الزام مسترد06 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||