زپی لیونی قدیمہ پارٹی کی نئی سربراہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی حکمران قدیمہ پارٹی نےوزیر اعظم ایہود اولمرت کی جگہ وزیر خارجہ اور موساد کی سابق ایجنٹ زپی لیونی کو جماعت کا نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔ وزیر خارجہ نے ریڈیو پر اپنی ایک تقریر میں اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ اچھے لوگوں کو فتح نصیب ہوئی ہے۔ وزیر اعظم ایہو اولمرت اپنے خلاف لگائے جانے والے بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے پارٹی کی سربراہی سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ زپی لیونی جن کی عمر پچاس سال ہے اگر مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو وہ تیس سال بعد اسرائیل کی دوسری خاتون وزیر اعظم ہونے کا اعزاز حاصل کریں گی۔ قبل ازیں ٹی وی پر کرائے جانے والے رائے عامہ کے جائزوں میں زپی لیونی کو اپنے مد مقابل شول موفاذ پر واضح برتری حاصل تھی۔ ایہود اولمرت مخلوط حکومت کی تشکیل تک نگران وزیر اعظم کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔ مخلوط حکومت کے قیام میں کئی ہفتے اور کئی مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں اسرائیلی وزیراعظم سے پوچھ گچھ08 August, 2008 | آس پاس ایک سو اٹھانوے فلسطینی رہا25 August, 2008 | آس پاس اولمرٹ، مقدمہ قائم کرنے کی سفارش08 September, 2008 | آس پاس ایرانی صدر کو دھمکی کی مذمت10 September, 2008 | آس پاس اسرائیل: ’سکیورٹی کے نام پر قبضہ‘11 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||