ایک سو اٹھانوے فلسطینی رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے فلسطینی رہنما محمود عباس کو سیاسی تقویت دینے کے لیے جذبۂ خیر سگالی کے طور پر ایک سو اٹھانوے فلسطینی قیدی رہا کر دیے ہیں۔ ان قیدیوں میں دو ایسے افراد بھی شامل ہیں جو کہ بالترتیب انیس سو ستتر اور انہتر سے اسرائیلی شہریوں کے قتل کے جرم میں قید تھے اور ان کا شمار طویل ترین قید گزارنے والے افراد میں ہوتا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا اپنے شہریوں کے قتل میں ملوث مجرموں کی رہائی کا یہ فیصلہ بہت ہی حیران کن ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ کے اگلے مہینے اپنی مدت ختم ہونے کے بعد اس عہدے کے ایک امیدوار شاول مفاذ نے قیدیوں کی رہائی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ اسرائیل کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کے دن قیدیوں کو معمول کے طبی معائنے کے بعد ریڈ کراس کے نمائندوں سے ملوایا گیا۔ فلسطین کے وزیر جیل خانہ جات اشرف اجرمی کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں کو رملہ کے قریب بیت النون چیک پوائنٹ پر رہا کر دیا گیا ہے جہاں سے انہیں سرکاری جشن میں شرکت کے لیے محمود عباس کے صدارتی کمپاؤنڈ لے جایا جائے گا۔ اتوار کے روز فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’قیدیوں کی رہائی کے بعد ان کا استقبال ایک قومی جشن کے طور پر کیا جائے گا‘۔ یہ رہائی ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جبکہ امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس خطے کے دورے پر ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ اس سال کے اختتام تک مشرق وسطی میں امن معاہدہ طے پا جائے۔ رملہ میں بی بی سی کے نامہ نگار علیم مقبول کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں فلسطین اور اسرائیل کے مابین جاری رہنے والی لڑائی کے بعد اس مقصد کو پانا مشکل نظر آتا ہے۔ فلسطین غرب اردن میں اسرائیل کی غیر قانونی آبادیوں کی توسیع سے نا خوش ہے اور کونڈولیزا رائس اپنے گزشتہ دورے کے موقع پر اسرائیل پالیسی پر تنقید کر چکی ہیں۔ | اسی بارے میں فتح ارکان، اسرائیل کی اجازت 03 August, 2008 | آس پاس غزہ: الفتح کے درجنوں حامی گرفتار26 July, 2008 | آس پاس فوجیوں کے تابوت اسرائیل کے حوالے 16 July, 2008 | آس پاس بیروت: ’قیدیوں‘ کا شاندار استقبال16 July, 2008 | آس پاس مشرق وسطٰی تنازعہ ، تصفیہ ’قریب‘13 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||