اسرائیل: ’سکیورٹی کے نام پر قبضہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے مغربی کنارے کی ہزاروں ہیکٹیر زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس زمین پر قبضہ یہ کہہ کر کیا گیا ہے کہ اسرائیلی آبادکاری کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ چند آبادکاروں نے اپنے حصے سے دو گنا سے بھی زیادہ علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی قوانین میں مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری غیر قانونی ہے۔ تنظیم کے مطابق آبادکاریوں سے دو گنا زائد علاقے پر قبضہ کیا گیا ہے اور فلسطینیوں کو ان علاقوں میں آنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر سرکاری طور پر زمین پر قبضہ پچھلے تیس سال سے جاری ہے۔ لیکن اب اسرائیلی فوج زمین پر قبضہ یہ کہہ کر کر رہی ہے کہ ایسا سکیورٹی کے تحت کیا جا رہا ہے۔ اس زمین میں سے آدھی زمین فلسطینیوں کی نجی ملکیت ہے لیکن اس کے باوجود ان کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اسرائیل ڈیفنس فورسز ن ے بی بی سی کو ایک بیان میں کہا کہ یہ قدم سکیورٹی کے لیے ضروری ہے۔ | اسی بارے میں رائس کی اولمرٹ سے ملاقات26 August, 2008 | آس پاس ایک سو اٹھانوے فلسطینی رہا25 August, 2008 | آس پاس جنگ بندی کامیاب حکمتِ عملی:ایہود11 August, 2008 | آس پاس اسرائیل کی جانب سے تفتیش کا حکم21 July, 2008 | آس پاس اسرائیل قیدیوں کے تبادلے پر راضی29 June, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||