ڈک چینی آذربائیجان کے دورے پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی نائب صدر ڈک چینی نے امریکی اتحادی سابق سوویت یونین کی ریاستوں کے دورے کا آغاز آذربائیجان سے کیا ہے۔ اس دورے میں چینی یوکرین اور جورجیا بھی جائیں گے۔ یہ دورہ روس کو نہیں بھائے گا جو کہ ان تین ریاستوں کو اپنے اثر و رسوخ میں دیکھنا چاہتا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق امریکہ ان ریاستوں کو اس کے توانائی کے ذخائر تک رسائی کے لیے اتحادی کے طور پر دیکھتا ہے۔ جورجیا میں امریکی نائب صدر جورجی وزیر اعظم کی حمایت کریں گے جن کو منگل کے روز روس نے ’سیاسی لاش‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے۔ روسی صدر نے امریکہ پر الزمام عائد کیا ہے کہ وہ جورجیا کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے اور امریکہ سے مطالبہ کی کہ وہ جورجیا سے اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے۔ ’بدقسمتی سے امریکہ نے سکاشولی کو کسی بھی قدم بشمول فوجی قدم اٹھانے کے لیے مکمل اختیار دے دیا تھا۔ اور اس وجہ سے کارروائی کی گئی۔‘ امریکی انتظامیہ نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ بدھ کے روز امریکہ جورجیا کی تعمیر نو کے لیے ایک بلین ڈالر کی امداد کا اعلان کرے گا۔ بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو روزنبرگ نے بتایا کہ امریکہ کا اصل مقصد خطے میں جمہوریت نہیں بلکہ تیل اور معادنیات کے ذخائر کو محفوظ رکھنا ہے۔ واشنگٹن بحرہ اوقیانوس میں موجود ذخائر سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور نہیں چاہتا کہ تمام ذخائر کی پائپ لائنیں ماسکو کی طرف جائیں۔ ایک پائپ لائن بحرہ اوقیانوس سے تیل آذربائیجان اور جورجیا کے ذریعے ترکی تک لے کر جا رہی ہے۔ | اسی بارے میں روسی’جارحیت‘پر برطانوی تنبیہ31 August, 2008 | آس پاس جورجیا: ای یو میں اختلافات کے آثار31 August, 2008 | آس پاس جورجیا تنازعہ: پوتن کا امریکہ پر الزام28 August, 2008 | آس پاس روس کا جورجیا سے انخلاء ’مکمل‘23 August, 2008 | آس پاس اوسیٹیا: مسئلے کا حل آسان نہیں09 August, 2008 | آس پاس باغیوں کا محاصرہ، روس کی دھمکی08 August, 2008 | آس پاس امریکہ اور روس کا سفارتی تنازع09 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||