امریکہ اور روس کا سفارتی تنازع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکام نے بتایا ہے کہ روس نے ماسکو میں امریکی سفارت خانے کے دو ملٹری اتاشیوں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔ امریکہ میں محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ اگرچہ امریکہ کو روس کے فیصلے پر اعتراض ہے لیکن سفارت خانے میں کام کرنے والے دونوں اتاشی حکم کی تعمیل کریں گے۔ حالیہ مہینوں میں واشنگٹن سے دو روسیوں کو ملک بدر کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک کو نومبر میں اور دوسرے کو بائیس اپریل کو امریکہ سے نکل جانے کا کہا گیا تھا۔ اس سفارتی تنازعے نے ایسے وقت جنم لیا ہے جب روس میں اقتدار کی منتقلی ہوئی ہے اور سابق صدر ولادیمیر پوتن ملک کے نئے وزیرِ اعظم بن رہے ہیں۔ روس میں امریکی ملٹری اتاشیوں کو ملک چھوڑ دینے کا حکم کچھ روز پہلے دیا گیا تھا لیکن امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے یہ بات اب ظاہر کی ہے۔ وہاں کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اتاشیوں کو روس چھوڑنے کا حکم تو دیا گیا ہے لیکن اس اہلکار نے یہ نہیں بتایا کہ ملک چھوڑنے کی کیا وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ کیا امریکی شہریوں نے ماسکو شہر چھوڑ دیا ہے یا ابھی تک وہیں ہیں۔ ان دونوں اتاشیوں کو روس نے ’ناپسندیدہ‘ تو قرار نہیں دیا لیکن سرکاری اہلکار کے مطابق انہیں ملک چھوڑنے کا حکم ملا ہے۔ روس میں وزارتِ خارجہ نے فی الوقت اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ | اسی بارے میں روس: نئے صدر کے لیے ووٹنگ شروع 02 March, 2008 | آس پاس صدارتی انتخابات: مبصرین کی تنقید03 March, 2008 | آس پاس روس: برٹش کونسل کے دفتر’بند‘17 January, 2008 | آس پاس گیری کسپاروو کی سیاست کتنی مؤثر22 June, 2007 | آس پاس ’بیرونی عناصر دخل اندازی کر رہے ہیں‘26 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||