روسی’جارحیت‘پر برطانوی تنبیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ روس کی مزید جارحیت کو روکنے کے لیے نیٹو اور یورپی یونین کو روس کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ مسٹر براؤن کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ جورجیا کے تنازعے پر روس تیل اور گیس کی رسد روک سکتا ہے۔ جنوبی اوسیٹیاکے بحران پر تبادلہ خیال کے لیے یورپی ممالک کے سربراہان کی کانفرنس سے ایک روز قبل مسٹر براؤن نے سنڈے آبزور میں لکھا ہے کہ یورپی یونین کو روس کے ساتھ اپنے تعلقات پر تفصیل سے نظر ثانی کرنی چاہئے۔ خطے میں یہ لڑائی سات اگست کو اس وقت شروع ہوئی جب جارجیا نے جنوبی اوسیٹیا پر طاقت کے ذریعے اپنا کنٹرول بحال کرنے کی کوشش کی۔جس کے بعد روس نے جوابی حملے کیے۔ مسٹر براؤن کا کہنا تھا کہ ’اگر روس کو جنوبی اوسیٹیا جیسے معاملے پر کوئی شکایت ہے تو اسے یکطرفہ طور پر جوابی کارروائی کرنے کے بجائے عالمی منظوری کے ساتھ قدم اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ’روس کو میرا واضح پیغام یہ ہے کہ اگر اسے جی8 ،ڈبلیو ٹی او اور او ای سی ڈی جیسی بڑی تنظیموں میں رہنا ہے تو یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ حقوق کے ساتھ ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ روس جی 8 ، اور دوسری بڑی تنظیموں میں ہمارا اچھا شریک بنے لیکن وہ اپنے قانون و قاعدے خود وضع نہیں کر سکتا۔ مسٹر براؤن نے کہا کہ ’پیر کو ہونے والی کانفرنس میں یہ دلیل دوں گا کہ روس جورجیا کی علاقائی سالمیت کا احترام کرتے ہوئےاپنی افواج واپس بلائے۔ | اسی بارے میں روسی الزامات جھوٹ: امریکہ29 August, 2008 | آس پاس آزاد جنوبی اوسیٹیا، ابخازیہ کی حمایت25 August, 2008 | آس پاس روس نے جورجیا پر قرارداد رد کر دی20 August, 2008 | آس پاس روس کو امریکہ کی وارننگ14 August, 2008 | آس پاس جورجیا کی بحری ناکہ بندی10 August, 2008 | آس پاس اوسیٹیا: مسئلے کا حل آسان نہیں09 August, 2008 | آس پاس روس نے جارحیت کی ہے: جورجیا07 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||