BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 August, 2007, 12:05 GMT 17:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
روس نے جارحیت کی ہے: جورجیا
جورجیا میں حکام کہتے ہیں کہ میزائل پھٹا نہیں اس لیے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
جورجیا کے دارالحکومت تبلیسی میں حکام نے کہا ہے کہ روس نے اس کے علاقے میں گائیڈڈ میزائل داغ کر جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ روسی میزائل پیر کو دارالحکومت تبلیسی سے ساٹھ کلو میٹر شمال مغرب کے ایک گاؤں تیسیتیلوبانی کے باہر گرا۔ تاہم یہ میزائل پھٹا نہیں۔

روسی نے فوری طور پر تبیلیسی کی جانب سے عائد کردہ تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔

انیس سو اکانوے میں سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سے دونوں ہمسایہ ریاستوں کے درمیان تعلقات ٹھیک نہیں رہے۔

جورجیا میں حکام کہتے ہیں کہ دو روسی لڑاکا طیاروں نے یہ میزائل گزشتہ روز گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق شام ساڑھے سات بجے داغا۔

جورجیا کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان شوٹا اوستیا شیویلی نے بی بی سی سے بات کرتے ہویے کہا کہ روسی جہاز جورجیا کے علاقے میں ستّر کلومیٹر تک آئے اور ایک ٹن وزنی میزائل داغا۔

اوستیا شیویلی کا کہنا تھا کہ میزائل ایک مقامی رہائشی کے گھر کے پچھلی طرف صحن میں آ کر گرا۔ انہوں نے کہا کہ ریڈار سے پتہ چلا ہے کہ روسی جہاز شمالی قوقاس میں واقع روس کے فوجی اڈے سے اڑا تھا اور یہ کہ جو میزائل داغا گیا وہ روسی فضائیہ کے پاس موجود جدید ترین میزائلوں میں سے ایک ہے۔

تبلیسی میں ایک سرکاری ترجمان کا کہنا ہے: ’روسی فضائیہ اور فوجیوں کے لیے یہ معمول کی بات ہے کہ وہ جورجیا کے علاقے میں گھس آتے ہیں۔ تاہم اس بار یہ واقعہ اس لحاظ سے مختلف ہے کہ روسی فضائیہ نے جورجیا کی فضائی حدود میں کافی اندر پہنچ کر ہمیں دھمکایا ہے اور بہت طاقتور بم استعمال کیا ہے۔”

اس سے قبل جورجیا کے وزیرِ داخلہ وانو میرا بشویلی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ایک دوسری ریاست سے اڑنے والے جہازوں نے (ہماری زمین پر ) میزائل داغ کر جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔

جورجیا کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس واقعہ پر تبلیسی میں روس کے سفیر کو دفترِ خارجہ طلب کر کے احتجاجی نوٹ ان کے حوالے کیا جائے گا۔

ادھر روس کی فضائیہ نے کہا ہے کہ اس کے کسی جہاز نے پیر یا منگل کو جورجیا کے علاقے پر پرواز نہیں کی ہے۔ روسی فوج کے کمانڈر کے ایک معاون کرنل الیگزینڈر نے کہا: ’روس نے خود مختار ریاست جورجیا کی سرحدوں کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔”

جس مقام پر میزائل گرا وہ جنوبی اوسٹیا سے زیادہ دور واقع نہیں۔ اوسٹیا جورجیا سے علیحدہ ہونے والا خطہ ہے اور ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ روس، اوسٹیا کو سیاسی امداد فراہم کرتا ہے۔

اس واقعہ پر دو متضاد بیانات سے جورجیا اور روس میں جاری کشیدگی ظاہر ہوتی ہے۔

ماسکو اور تبلیسی کے درمیان تعلقات گزشتہ برس اس وقت تیزی سے خراب ہوگئے تھے جب جورجیانے چار روسی فوجیوں کو جاسوسی کے الزام میں ملک بدر کر دیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی جنگ شروع ہوگئی تھی اور روس نے جورجیا پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے کئی شہروں کو ملک سے باہر نکال دیا تھا۔

ماسکو جورجیا سے اس وجہ سے بھی ناراض ہے کہ تبلیسی نیٹو میں شامل ہونے کے منصوبے بنا رہا ہے جبکہ جورجیا کی طرف سے روس پر یہ الزام لگتا ہے کہ وہ تبلیسی کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

جورجیا کی اکثریت روس پر سامراجیت کا الزام لگاتی ہے جبکہ روس جورجیا کو قوم پرستی اور روس مخالف خارجہ پالیسی کی بنیاد پر ہدفِ تنقید بناتا ہے۔

اسی بارے میں
وسط ایشیامیں ہلچل
26 March, 2005 | آس پاس
نینو برڈژناتزے عبوری صدر
24 November, 2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد