’چین اظہار رائے کی آزادی کو فروغ دے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں مذہب اور اظہار رائے کی آزادی کو مزید فروغ دے۔ یہ بات انہوں نے جنوبی کوریا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔ امریکی صدر اولمپک میں شرکت کے لیے بیجنگ روانگی سے قبل کوریا کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اولمپک سے قبل چین نے اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف جو کارروائی کی ہے وہ ایک غلطی ہے۔ ’میں چینی حکام سے ساڑھے سات سال سے مل رہا ہوں اور میرا پیغام ایک ہی ہے کہ معاشرے میں مذہبی لوگوں سے نہ گھبرائیں۔ اور اصل بات یہ ہے کہ مذہبی افراد معاشرے کو بہتر بنائیں گے۔‘ امریکی صدرر پر دباؤ تھا کہ وہ اولمپک کی تقریب میں شرکت نہ کریں تاہم صدر بش کا کہنا ہے ’میں کھیلوں کی تقریب میں چینی عوام کے احترام اور امریکی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے جا رہا ہوں۔‘ کوریا کے صدر کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر بش نے فوجی روابط مزید مضبوط کرنے کا کہا اور شمالی کوریا کا ایٹمی پروگرام ختم کرنے کی پیش رفت کا خیر مقدم کیا۔ | اسی بارے میں ’کھیلوں کو سیاسی رنگ نہ دیں‘02 August, 2008 | آس پاس چین اولمپکس، انسانی حقوق مزید پامال 29 July, 2008 | آس پاس چین : انسانی حقوق کےکارکن کو سزا 03 April, 2008 | آس پاس چین پر ایمنسٹی کی نئی رپورٹ02 April, 2008 | آس پاس بیرونی سفارتکاروں کا دورۂ تبت29 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||