’کھیلوں کو سیاسی رنگ نہ دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیجنگ اولمپک کھیلوں کے انعقاد سے صرف ایک ہفتے قبل چین کے صدر ہوجن تاؤ نے کہا ہے کہ ان کھیلوں کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ چین کے صدر نے غیر معمولی طور پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیرضروری سیاست سے اولمپکس کی تحریک کو نقصان پہنچے گا اور تمام متنازعہ مسئلوں کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی کھیلوں کی میزبانی کی ذمہ داری نبھا کر چین نے امنِ عالم کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ بیجنگ میں ہوجن تاؤ کی پریس کانفرنس صحافیوں کی طرف سے انٹر نیٹ کے استعمال پر پابندیوں پر اعتراض کے بعد اس میں نرمی کرنے کے فیصلے کے پس منظر میں ہوئی۔ صحافیوں کے مطابق بیجنگ میں اولمپکس کے میڈیا سینٹر میں بہت سی انٹر نیٹ کی ایسی سائٹس جن پر پابندی تھی جن میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشل کی سائٹ بھی شامل ہے اب کھول دی گئی ہیں۔ بی بی سی کے مطابق چین میں ماضی میں جن انٹر نیٹ سائٹس پر پابندی تھی اب دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہ چینی حکام اور بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے اہلکاروں کے درمیان جمعرات کو ہونے والے مذاکرات کے بعد ممکن ہوا ہے۔ گزشتہ مہینوں میں چین کو انسانی حقوق کے حوالے اور تبت اور درافور جیسے تنازعات پر شدید تقنید کا سامنا رہا ہے۔ صدر ہو جن تاؤ کا کہنا تھا کہ اولمپکس کی میزبانی کرنے کا چین کا واحد مقصد بین الاقوامی امن اور دوستانہ تعلقات کو پروان چڑہانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں اور ملکوں میں رہنے والوں کے درمیان اختلاف کا پایا جانا قدرتی عمل ہے۔’
انہوں نے کہا کہ باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر ہمیں مذاکرات اور بات چیت کا عمل شروع کرنا چاہیے تاکہ ان اختلاف کو کم کیا جا سکے اور اپنے مشترکہ مفادات کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وسیع اصلاحات کا عمل جن میں اقتصادی اور سیاسی اصلاحات بھی شامل ہیں اولمپکس کے بعد بھی جاری رہے گا۔ نامہ نگاروں کے مطابق ہو جن تاؤ نے یہ بات ان ناقدین کے جواب میں کہی ہے جن کے خیال میں چین میں حالیہ دنوں میں دی جانے والی آزادیاں اولمپک کھیلوں کے ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو جائیں گی۔ ہو جن تاؤ نے کہا کہ چین کی تیز رفتار ترقی پر خوفزداہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی ترقی پرامن، کھلی اور تعاون پر مبنی ہے ہوجن تاؤ نے انٹر نیٹ پر پابندیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ صحافیوں کا وہ خیرمقدم کرتے ہیں اور انہیں بھی چین کے قوانین اور ضوابط کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ صحافی جو کچھ چین میں دیکھیں گے اس کی حقیقی تصویر کشی کریں گے۔ | اسی بارے میں bbcchinese.com پر پابندی ختم01 August, 2008 | آس پاس چین: مزید سائٹوں پر پابندی ختم01 August, 2008 | آس پاس اولمپک گیمز: بش بیجنگ جائیں گے03 July, 2008 | آس پاس چین اولمپکس، انسانی حقوق مزید پامال 29 July, 2008 | آس پاس اولمپک مینو میں کتّے کاگوشت نہیں12 July, 2008 | آس پاس اولمپک: انٹرنیٹ تک رسائی محدود30 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||