BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 August, 2008, 11:55 GMT 16:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
القاعدہ رہنما کی ہلاکت کی تصدیق
مدحت مصری (فائل فوٹو)
مدحت مصری اٹھائیس جولائی کو تین القاعدہ کمانڈروں کے ہمراہ ہلاک ہوئے
القاعدہ نے ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں تنظیم کے رہنما اور بم بنانے کے ماہر مدحت مصری المعروف ابوخباب المصری کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

القاعدہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پچپن سالہ ابوخباب المصری القاعدہ کے دیگر تین کمانڈروں کے ہمراہ اٹھائیس جولائی کو مارےگئے ہیں۔ یہ بیان ایک ایسی اسلامی شدت پسند ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے جہاں عموماً القاعدہ کی جانب سے جاری کردہ بیانات اور ویڈیوز شائع کیے جاتے ہیں۔

سنہ دو ہزار چھ میں بھی یہ خبر آئی تھی کہ ابوخباب مصری ایک حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں لیکن یہ خبر بعد میں غلط ثابت ہوئی۔

ابوخباب امریکی حکومت کو انتہائی مطلوب افراد میں شامل تھے اور ان کے بارے میں اطلاع دینے والے کے لیے امریکہ نے پچاس لاکھ ڈالر کا انعام رکھا ہوا تھا۔ ابو خباب المصری پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے امریکی بحری جہاز یو ایس ایس کول پر حملہ کرنے والے افراد کی تربیت بھی کی تھی۔ یمن میں ہونے والے اس حملے میں سترہ امریکی ملاح ہلاک ہوئے تھے۔

افغانستان میں القاعدہ کے رہنما مصطفٰی ابو یزید کے دستخطوں سے جاری بیان میں مدحت مصری کی ہلاکت کی کوئی تفصیل نہیں دی گئی تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں گزشتہ ہفتےسرحد پار سے ہونے والے میزائل حملے میں ہلاک ہوئے۔ اس حملے میں کل سات افراد مارے گئے تھے۔

پاکستانی فوج اور افغانستان میں سرگرم امریکی فوج نے اٹھائیس جولائی کو ہونے والے اس حملے میں ہونے والی ہلاکتوں سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔ یہ میزائل سرحد پار افغانستان سے فائر کیا گیا تھا اور اس کا نشانہ اعظم وارسک نامی گاؤں کا ایک گھر بنا تھا۔

حملے کے بعد پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ’اس علاقے میں ایسا واقعہ پیش آیا ہے تاہم یہ حملہ میزائل کا تھا، راکٹ کا تھا یا پھر یہ کوئی بم دھماکہ ہوا، اس بارے میں ہم ابھی نہیں جانتے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’اتحادی افواج اپنی کارروائیوں سے قبل ہم سے معلومات کا تبادلہ نہیں کرتی ہیں۔‘

اسی بارے میں
جوابی کارروائی کا دعویٰ
12 July, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد