’القاعدہ کی توجہ اب افغانستان پر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں اعلیٰ امریکی فوجی کمانڈر نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے القاعدہ اپنے اپنی توجہ عراق سے ہٹا کر افغانستان پر کرنے پر غور کر رہا ہو۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے ایک انٹرویو میں جنرل ڈیوڈ پیٹروس نے کہا ہے کہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ غیر ملکی جنگجوؤں کو عراق سے افغانستان بھیجا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ شدت پسند اسلامی گروپ عراق میں جنگ کو مکمل طور پر ترک کر دے گا۔ افغانستان میں القاعدہ نے ارتقاء کی کئی منزلوں سے گزرا ہے اور طالبان کے اقتدار کے دوران ان سے قریبی رابطے کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ تاہم بعد میں جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو القاعدہ نے اپنی توجہ عراق میں جاری مزاحمت پر مرکوز کر دی۔ جنرل ڈیوڈ پیٹروس کے مطابق ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مسلسل اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ کیا عراق میں لڑائی جاری رکھنا ممکن ہے یا نہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ القاعدہ عراق میں لڑائی ترک نہیں کر ےگا اور ایسا سوچا بھی نہیں جانا چاہیے۔ ’یقینی طور پر یہ ممکن ہے کہ وہ ایسے جنگی ذرائع جن کو عراق لایا جا سکتا تھا ان کو اب پاکستان اور ممکنہ طور پر افغانستان میں جاری لڑائی کے لیے مہیا کر دیا جائے۔‘ جنرل ڈیوڈ پیٹروس نے کہا کہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ القاعدہ کی طرف سے عراق میں لڑنے کے لیے بھرتی کئے گئے جنگجوؤں کو پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع قبائلی علاقے میں بھیج دیا گیا۔ امریکہ پہلے ہی پاک افغان سرحد پر جنگجوؤں کی آزادانہ آمد و رفت تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔ حال ہی میں امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا کہ امریکہ پاک افغان سرحد پر جنگجوؤں کی آزادانہ آمد و رفت کو روکنے کا طریقہ ڈھونڈنے کی سخت کوشش کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں خود کش حملے، پینتیس ہلاک15 July, 2008 | آس پاس نیٹو بمباری سے’درجنوں ہلاک‘17 July, 2008 | آس پاس ہنگو میں جرگہ ناکام، کرفیو نافذ16 July, 2008 | پاکستان افغانستان: امریکی فوج میں اضافے پر غور17 July, 2008 | پاکستان زرگیری:’سکیورٹی فورسز کا کنٹرول‘18 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||