جہادیوں کے لیے اصلاحی پروگرام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی حکومت نے شدت پسندی سے مقابلہ کرنے کے لیے نئے طریقے اختیار کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ریاض کے مضافات میں واقع ایک چھوٹا سا کمپاؤنڈ، جس کی دیواریں اونچی اور خار دار تاروں سے مزین ہیں، ایک جیل ہی ہے لیکن سعودی حکام اس کو کئیر سنٹراور قیدیوں کو بینیفیشری یعنی اس سنٹر سے فائدہ حاصل کرنے والے کہنا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔ اس قید خانے کی وضع قطع ایک سعودی جیل کے تصور سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں قیدیوں کو مختلف طرح کے تفریحی مواقع مہیا کیے جاتے ہیں جس میں سوئمنگ پول، ویڈیو گیمز اور ٹیبل ٹینس کی سہولیات شامل ہیں۔اور اس کے بدلے میں قیدیوں کو اسلامی تعلیمات کی کلاسیں لینی پڑتی ہیں جہاں اسلامی سکالر ان کے مذہبی تصورات کو چیلنج کرنا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد ان جہادیوں کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ وہ جس اسلام کو لے کر چل رہے ہیں وہ اصل اسلام نہیں ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ان جہادیوں کو مذہب اور مذہبی تہذیب کا درس دیا جاتا ہے۔ یہ درس علماء، مولانا اور ماہرِ نفسیات دیتے ہیں۔ ان کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اسلام میں پرتشدد جہاد کی اجازت نہیں اور صرف اس صورت میں اجازت ہے جب ریاست اور جہادی کے والدین کی اجازت ہو۔
اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کی اصلاح کے بعد حکومت ان کی ہر ممکن امداد کرتی ہے کہ وہ کاروبار، نوکری اور شادی کر کے اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔ سعودی عرب میں یہ پروگرام اثر و رسوخ رکھنے والی وزارتِ داخلہ چلا رہی ہے اور اس پروگرام کو چلانے کے لیے آئیڈیولوجی سکیورٹی یونٹ کی خدمات وقف کر رکھی ہیں۔ سعودی حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ماضی میں کیے گئے کسی بھی جرم کی پرواہ کیے بغیر وہ اسلامی شدت پسندوں کو بحالی کا موقع ضرور دیں گے۔ احمد شیاعے اگست سنہ دو ہزار تین میں بغداد میں اردن کے سفارت خانے پر کار بم حملے میں ملوث تھا جس میں نو افراد ہلاک اور ساٹھ سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ یہ وہاں جنگجوؤں کی طرف سے پہلا بڑا حملہ تھا اور اس کو عراق میں القاعدہ کی آمد کے اعلان کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ شیاعے اس حملے میں بچ گئے تھے اور امریکی فوجیوں کی طرف سے عراق سے واپس بھیجنے کے بعد انہیں اس کئیر سنٹر میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ میں اب القاعدہ کا دشمن ہوں اور میرے خیال سے اللہ نے مجھ کو یہی پیغام دینے کے لیے بچایا ہے۔‘ قیدیوں کی بحالی کے لیے ان کے خاندان کے افراد کو بھی ان سے ملنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اور اسی طرح ان قیدیوں کو بھی بنا کسی اہلکار کے اپنے گھر جانے کی اجازت ہے اس یقین کے ساتھ کہ وہ دوبارہ لوٹیں گے۔ اس طرح کے کئیر سنٹر خصوصاً ان قیدیوں کے لیے بنائے گئے ہیں جو کہ امریکہ کے زیر انتظام گوانتا نامو بے میں قید گزار چکے ہیں اور ان قیدیوں کی رہائی سے پہلے ان میں اور سعودی حکومت کے مابین اعتماد کی فضا قائم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ جمعہ محمد دوساری، جو گوانتا نامو بے میں چھ سال گزار چکے ہیں، کہتے ہیں کہ ’اس کئیر سنٹر نے مجھے بتدریج معاشرے کی طرف جانے کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا ہے۔ آپ گوانتا نامو بے سے نکل کر معمول کی زندگی نہیں شروع کر سکتے یہ بہت مشکل کام ہے۔ سب کچھ بدل جاتا ہے۔ سعودی عرب بدل جاتا ہے پوری دنیا بدل جاتی ہے۔‘ میری بیوی بہت عظیم عورت ہے وہ مجھے کہتی ہے کہ سب کچھ بھول جاؤ اس کیئر سنٹر کے کھلنے کے بعد سے اس میں وقت گزارنے والے کسی بھی قیدی نے دوبارہ کوئی خلاف قانون کام نہیں کیا۔ لیکن سعودی حکومت کی طرف سے رہائی کے بعد ملنے والی امداد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کا اچھا چال چلن ضروری نہیں کہ ان میں نظریاتی تبدیلی ثابت کرتی ہو۔ اس سنٹر کو کھلے ہوئے ابھی اٹھارہ ماہ ہی ہوئے ہیں اور اس میں سے نکلنے والے زیادہ تر افراد وہ نہیں جو کہ القاعدہ کے نظریاتی رکن ہوں۔ ان لوگوں کو اپنے خیالات اور نظریات تبدیل کرنے کے لیے شاید ویڈیو گیم، پنگ پونگ یا پیپسی جیسی چیزوں سے کہیں زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں عراق کے عالمی کمپنیوں سے معاہدے30 June, 2008 | آس پاس تیل کی قیمتوں پر جدہ میں اجلاس22 June, 2008 | آس پاس تیل کی قیمتیں، جی ایٹ کا اجلاس08 June, 2008 | آس پاس مکہ: بین المذاہب مکالمہ کانفرنس 04 June, 2008 | آس پاس سعودیہ پیداوار بڑھانے کو تیار نہیں16 May, 2008 | آس پاس سعودی بلاگر کی رہائی27 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||