مکہ: بین المذاہب مکالمہ کانفرنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب میں جاری ایک بین القوامی کانفرنس میں شریک سینکڑوں مسلمان مندوب مستقبل میں غیر مسلموں سے ’بین المذہبی مکالمہ‘ کے لیے حمایت حاصل کرنے کے طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔ مکہ میں جاری اس تین روزہ کانفرنس کا اعلان شاہ عبداللہ نے خود کیا تھا اور نامہ نگاروں کے مطابق شاہ کا بذاتِ خود اعلان کرنا اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ سعودی عرب مسلمان ملکوں میں ایک سخت عقیدہ سنی مملکت تصور کی جاتی ہے۔ اس کانفرنس کے آغاز سے قبل شاہ عبداللہ نے کانفرنس میں آنے والے وفود سے ملاقاتیں بھی کیں جن میں خاص طور پر ایران کا وفد قابل ہے جس کی قیادت ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کر رہے ہیں۔ اتوار کو سعودی علماء کے ایک گروپ نے عراق میں شیعہ اکثریت کی جانب سے سنیوں کے ساتھ توہیں آمیز سلوک پر ایران اور عراق کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان علماء نے لبنان کے شیعہ گروپ حزب اللہ کی بھی مذمت کی جسے ایران اور شام کی حمایت حاصل ہے۔ | اسی بارے میں مسلم، عیسائی ہم آہنگی کی اپیل11 October, 2007 | آس پاس مکالمہ جاری رہنا چاہیئے: پوپ25 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||