BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 June, 2008, 03:41 GMT 08:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوانتاناموبے فیصلے سےاختلاف ہے: بش
گوانتاناموبے
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ غیر ملکی لوگوں کوغیر ملکی سرزمین پر قید رکھا گیا ہے
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اُس فیصلے کا احترام کرینگے جس کے تحت گونتانامو بے میں زیر حراست قیدی اپنی حراست کو امریکی عدلیہ کے ذریعے چیلینج کرسکیں گے۔

یورپی ممالک کے اپنے الوداعی دورے کے دوران انہوں نے روم میں یہ بھی واضع کیا کہ وہ اس عدالتی فیصلے سے قومی سلامتی کے حوالے سے اختلاف رکھتے ہیں۔

نو جج اس فیصلے پر چار اور پانچ میں بٹے ہوئے تھے لیکن فیصلہ اکثریتی ججوں میں سے ایک کے اِن الفاظ پر ہوا کہ غیر معمولی حالات میں بھی قانون اور آئین کی بالادستی ضروری ہے۔

واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونلی کا کہنا ہے کہ بش انتظامیہ کی جانب سے ایک نئے حراستی نظام کی تخلیق کو سپریم کورٹ کی جانب سے روکنے کے لیے خاصی دیر سے جاری مقابلے کا یہ تازہ ترین راؤنڈ تھا۔ ایک ایسا حراستی نظام جہاں فوج کی زیر نگرانی طالبان اور القاعدہ سے مبینہ تعلق رکھنے والے جنگجؤوں پر مقدمہ چلا کر انہیں سزائیں دی جاسکیں۔

وائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ اِن غیر ملکی باشندوں کو غیر ملکی سرزمین پر قید رکھا گیا ہے چونکہ گونتانامو کیوبا کے جزیرے پر واقع ہے اس لیے اس پر امریکہ کا آئین لاگو نہیں ہونا چائیے۔ گونتانامو میں قید افراد کو امریکی قانون کے تحت ان کے حقوق دینے کی سپریم کورٹ کی گزشتہ کوشش کو بش انتظامیہ نے ایک نئی طرز کی فوجی عدالتیں بنا کر غیر موثر کرنا چاہا تھا جسے اب سپریم کورٹ کے ججوں نے اپنے فیصلے میں نامناسب قرار دے دیا ہے۔

صدر بش نے روم میں دئے گئے اپنے بیان میں واضع کردیا کہ وہ عدالت کے فیصلے کا احترام تو کرینگے لیکن انہوں نے یہ فیصلہ دل سے قبول نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اِس فیصلے پر ججوں میں ایک گہری خلیج نظر آئی ہے اور میں اِس فیصلے سے اختلاف کرنے والوں کے ساتھ اتفاق کرتا ہوں۔ اب ہم اِس فیصلے پر غور کرینگے اور دیکھیں گے کہ کہیں ہمیں اضافی قانون سازی کی تو ضرورت نہیں تاکہ ہم ایمانداری سے امریکی عوام سے کہہ سکیں کہ ان کی حفاظت کے لیے جو ہوسکتا ہے ہم کر رہے ہیں۔‘

اِس عدالتی فیصلے کا یہ مطلب نہیں کہ گونتانامو کے قیدیوں کو فوری یا مستقبل قریب میں رہائی مل جائے گی۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ شاید وہ فوجی کمیشن جس نے یہاں زیر حراست کچھ قیدیوں کے کیسوں پر کام شروع کردیا ہے وہ رک جائے یا معطل ہوجائے اور اِس دوران ان قیدیوں کے وکلاء امریکی عدالتوں سے اُن کی حراست کے قانونی یا غیر قانونی ہونے پر فیصلہ لے لیں۔

گونتانامو کا تنازعہ ویسے بھی شاید زیادہ دیر نہ چل سکے کیونکہ اگلے امریکی صدر کے لیے دونوں امیدوار پہلے ہی اِس حراستی مرکز کو بند کر دینے کی بات کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد