زمبابوے، امدادی تنظیموں کا کام بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زمبابوے کی حکومت نے ملک میں کام کرنے والی تمام امدادی تنظیموں کو اپنا کام بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ امدادی تنظیموں کے کام کو غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا گیا ہے۔ زمبابوے کے نائب وزیر اطلاعات، برائیٹ مٹونگا نے ان تنظیمیں پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’حزب اختلاف کے حق میں مہم چلا رہی تھیں۔‘ زمبابوے کی حکومت نے یہ اقدام صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے سے کچھ روز پہلے کیا ہے۔ زمبابوے میں اپوزیشن جماعت ’مؤمنٹ فار ڈیموکریٹک چینج‘ یعنی ایم ڈی سی کا کہنا ہے کہ صدر رابرٹ مگابے کی حکمراں جماعت ’زانو پی ایف‘ حزب اختلاف کو حراساں کر رہی ہے اور اس کے کئی کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایم ڈی سی کا کہنا ہے کہ حکومت کے سیاسی حملوں میں اس کے پینسٹھ حامیوں کو ہلاک کریا گیا ہے۔ حال میں ہونے والے ایک واقعے میں صدر مگابے کی حکمراں جماعت زانوپی ایف کے کارکنوں نے ایم ڈی سی کے دو حامیوں کو زندہ جلا دیا تھا۔ ان پر تشدد واقعات پر تفتیش کرنے والے کچھ امریکی اور برطانوی سفارت کاروں کو بھی پولیس نے کئی گھنٹے تک حراست میں رکھا۔امریکہ اور برطانیہ نے اس واقعہ پر زمبابے کے حکام سے وضاحت طلب کی ہے اور اس پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم زمبابوے کے وزیر اطلاعات نے امریکی سفیر اور برطانوی ہائی کمشنر پر حزب اختلف کے ساتھ مل کر عوام کو اکسانے کا الزام لگایا اور انہیں خبردار کیا ہے کہ انہیں خارج بھی کیا جا سکتا ہے۔ امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے سے ملک میں مدد کے سب سے زیادہ ضرورمند افراد کو سب سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ خوراک کی امداد کے روکے جانے کے اثرات بہت سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں موگابے سبکدوش نہیں ہو رہے02 April, 2008 | آس پاس دوسرا انتخابی مرحلہ مشکوک03 May, 2008 | آس پاس زمبابوے:23 حلقوں میں دوبارہ گنتی 13 April, 2008 | آس پاس زمبابوے:چنگرائی کا واضح فتح کا دعوٰی05 April, 2008 | آس پاس انتخاب میں حصہ لوں گا: چنگرائی10 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||