زمبابوے:23 حلقوں میں دوبارہ گنتی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زمبابوے کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق الیکشن کمیشن نے تیئس متنازعہ حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا ہے۔ سرکاری اخبار سنڈے میل نے الیکشن کمیشن کے سربراہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ دوبارہ گنتی کا عمل آئندہ سنیچر کو انجام پائے گا۔ الیکشن کمیشن نے سربراہ جارج چیویشی کا کہنا تھا کہ جن تئیس حلقوں میں دوبارہ گنتی کا حکم دیا گیا ہے وہاں ہونے والی ووٹنگ پر حکمران جماعت زانو پی ایف اور اپوزیشن جماعت ایم ڈی سی دونوں معترض تھیں۔ اس سے قبل اپوزیشن جماعت ایم ڈی سی نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ صدر موگابے الیکشن کمیشن کے حکام کو گرفتار کر کے ان کے کام پر اثرانداز ہونے اور نتائج تبدیل کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے دوبارہ گنتی کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایک طرف زمبابوے کے سیاسی بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے افریقی ممالک کا سربراہ اجلاس زیمبیا میں جاری ہے اور دوسری طرف اقوامِ متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ انتخابات کے نتیجے کو منظرِ عام پر لانا نہایت ضروری ہے کیونکہ زمبابوے میں حکومت اور اپوزیشن کا نازک توازن زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتا۔ زمبابوے میں انتیس مارچ کو صدارتی، پارلیمانی اور مقامی سطح پر انتخابات منعقد ہوئے تھے جن کے مکمل نتائج کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم حزبِ اختلاف نے ان انتخابات میں فتح کے دعوے کیے ہیں اور ایم ڈی سی کا کہنا ہے کہ اس کے رہنما مارگن چنگرائی واضح طور پر صدارتی انتخاب جیت چکے ہیں۔ یہ سنہ 1980 کے بعد پہلا موقع ہے کہ صدر رابرٹ موگابے کی جماعت زانو پی ایف زمبابوے کی پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ | اسی بارے میں زمبابوے پر اجلاس موگابے کے بغیر11 April, 2008 | آس پاس زمبابوے: ووٹوں کی دوبارہ گنتی کامطالبہ06 April, 2008 | آس پاس زمبابوے:چنگرائی کا واضح فتح کا دعوٰی05 April, 2008 | آس پاس موگابے کو حکمران پارٹی کی حمایت05 April, 2008 | آس پاس صدر موگابے کے مستقبل پر غور 04 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||