دوسرا انتخابی مرحلہ مشکوک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زمبابوے کے دارالحکومت ہرارے میں حزب اختلاف کے اتحاد دی موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج (ایم ڈی سی) کا اجلاس صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں حصہ لینے کے لیے کسی فیصلہ کن نتیجے کے بغیر ختم ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں کسی فیصلے پر پہنچنے کے لیے ایم ڈی سی کا ایک وفد جنوبی افریقہ ایم ڈی سی کے رہنما مورگن چنگرائی سے ملنے جائے گا۔ مورگن چنگرائی نے انتخابات کے اس مرحلے میں حصہ لینے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔ اس سے قبل زمبابوے میں حزب اختلاف کے رہنماؤں نے صدارتی انتخابات کے نتائج کو مسترد کر دیا تھا۔ انتخابی نتائج کے مطابق اگرچہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو زیادہ ووٹ ملے ہیں لیکن ان کی برتری اتنی نہیں کہ پولنگ کے ایک اور مرحلے کے بغیر انہیں فتح دلا سکے۔ حزب اختلاف کے اتحاد دی موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج (ایم ڈی سی) نے الزام لگایا ہے کہ اس کو دھاندلی کے ذریعے ہزاروں ووٹوں سے محروم کیا گیا ہے جو اس کے امیدوار مارگن چِنگرائی کو صدر موگابے کے مقابلے میں فتح دلا سکتے تھے۔ تاہم ایم ڈی سی نے انتخاب کے دوسری مرحلے میں حصہ لینے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا تھا اور کہا تھا کہ اس بات کا فیصلہ حزب اختلاف کے رہنماء اختتامِ ہفتہ ہونے والے اجلاس میں کریں گے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے الیکشن کے دوسرے مرحلے کے بائیکاٹ کی صورت میں صدر رابرٹ موگابے خود بخود فاتح قرار پائیں گے۔ دوسری طرف صدر رابرٹ موگابے نے انتخابی نتائج کو تسلیم کر لیا ہے جن کے مطابق انہیں ایم ڈی سی کے امیدوار مارگن چنگرائی کے مقابلے میں تینتالیس اعشاریہ دو فیصد ووٹ ملے ہیں۔ مارگن چنگرائی کے حصے میں سینتالیس اعشاریہ نو فیصد ووٹ آئے ہیں۔ صدر موگابے کے ایک ترجمان کے مطابق وہ صدارتی الیکشن کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ میں حصہ لیں گے۔ جوہانسبرگ میں بی بی سی کے نامہ نگار پیٹر بائلز کے مطابق اگرچہ انتخابی نتائج صدارتی مقابلے کا حتمی فیصلہ کرنے میں ناکام رہے ہیں لیکن ان سے چوراسی سالہ صدر کی بہت جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ ایم ڈی سی کے سیکریٹری جنرل ٹینڈائی بِٹی کا کہنا ہے کہ حزبِ اختلاف کے امیدوار مارگن چنگرائی کو صدرارتی انتخاب میں فاتح قرار دیا جائے کیونکہ وہ پچاس اعشاریہ تین فیصد ووٹ لے چکے ہیں۔ دوسری طرف زمبابوے الیکشن کمشن پولنگ کا دوسرا مرحلہ تین ہفتے کے اندر اندر ہو گا اور اس کی حتمی تاریخ کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔ | اسی بارے میں زمبابوے: حزب اختلاف کی فتح03 April, 2008 | آس پاس ’موگابے استعفٰی نہیں دیں گے‘04 April, 2008 | آس پاس صدر موگابے کے مستقبل پر غور 04 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||