BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 April, 2008, 14:19 GMT 19:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طیب اردگان دمشق پہنچ گئے
ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردگان
ترک وزیر اعظم رجب طیب اردگان
ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردگان دمشق پہنچ گئے ہیں جہاں وہ شام اور اسرائیل کے مابین مذاکرات میں ثالث کے طور پر قیام امن کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

اردگان دمشق کا دورہ ایسے وقت کر رہے ہیں جب ایک روز پہلے ہی شام کی طرف سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ اسرائیل نے امن کے بدلے میں اسے گولان کی پہاڑیاں واپس کرنے کی پیشکش کی ہے۔

اردگان نے کہا ہے کہ ترکی دونوں ملکوں میں ثالثی کا اپنا فرض نبھا رہا ہے۔ شام اور اسرائیل گزشتہ چالیس برسوں سے ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما رہے ہیں مگرحال ہی میں اب دونوں قیام امن کی جانب سوچنے لگے ہیں۔

شام کا ہمیشہ موقف رہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بات چیت اسی وقت شروع کی جاسکتی ہے جب وہ پہلے گولان کی پہاڑیاں واپس کردے گا جس پر اس نے سن سڑسٹھ کی جنگ میں قبضہ کیا ہے۔

پہلے بھی دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات ہورہے تھے مگر وہ سن دوہزار میں ٹوٹ گئے۔ حال ہی میں جب شام نے مذاکرات کا انکشاف کیا تو اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے اس پر کوئی رائے دینے سے انکار کریا تاہم اولمرٹ نے کہا کہ وہ شام کے ساتھ امن قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔

اسرائیل کی شرط
 اسرائیل کی شرط ہے کہ وہ گولان میں اس حصے پر اپنا قبضہ برقرار رکھنا چاہتا ہے جہاں گلیلی سے وہ پانی کی سپلائی کو کنٹرول کرتا ہے اور وہ شام سے اس کے بدلے میں اسکی یقین دہانی بھی چاہتا ہے کہ وہ لبنان میں حزب اللہ اور حماس کی حمایت کرنا بند کردے۔
انقرہ سے روانہ ہونے سے قبل اردگان نے زور دے کر کہا کہ خطے میں ہمسایہ ملکوں کے درمیان پائے جانے والے تعلقات میں بہتری سے ترکی کو موقع ملا ہے کہ وہ مشرق وسطی میں قیام امن کے لئے کلیدی کردار ادا کرے۔

بعض مبصر کہتے ہیں کہ شام اور اسرائیل کے درمیان بہتر تعلقات سے شام اور ایران کے درمیان کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔

ایک اور تنازعہ اس وقت کھڑا ہوگیا جب امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی جانب سے خبر آئی کہ گزشتہ ستمبر میں اسرائیل نے شام کے مبینہ فوجی اور جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تھا۔ شام نے ان خبروں کی تردید کی اور کہا کہ امریکہ نے اس پر شمالی کوریا سے جوہری ٹیکنالوی حاصل کرنے کا جوالزام عائد کیا ہے وہ بے بنیاد ہے ۔

امریکی انکشاف سے نہ صرف شام کے صدر بشر الاسد کی سبکی ہوئی ہے بلکہ اسرائیل میں بھی تشویش بڑھ گئی ہے اور اندرونی حلقوں میں یہ احساس گہرا ہے کہ شام کسی طرح جوابی کارروائی کا فیصلہ نہ کرلے۔

اسرائیل کی شرط ہے کہ وہ گولان میں اس حصے پر اپنا قبضہ برقرار رکھنا چاہتا ہے جہاں گلیلی سے وہ پانی کی سپلائی کو کنٹرول کرتا ہے اور وہ شام سے اس کے بدلے میں اسکی یقین دہانی بھی چاہتا ہے کہ وہ لبنان میں حزب اللہ اور حماس کی حمایت کرنا بند کردے۔

شام اور اسرائیل کے درمیان امن قائم ہونا کوئی آسان مرحلہ نہیں ہوگا اور اس سے مشکل مرحلہ ترکی کے لئے ہے جس نے دیرینہ دشمنوں کو مذاکراتی میز پر لانے اور انہیں سمجھانے بجھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد