BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 November, 2007, 23:45 GMT 04:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امن کانفرنس کے لیے کوششیں تیز
شام گولان کی پہاڑیوں کو کسی بھی امن معاہدے کا حصہ بنانا چاہتا ہے
امریکہ کے زیرِ اہتمام اس ہفتے واشنگٹن میں ہونے والی مشرقِ وسطیٰ امن کانفرنس سے قبل امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کاروں سے بات چیت کی ہے تاکہ ان کے اختلافات کم کرائے جاسکیں۔

کونڈولیزا رائس، اسرائیلی وزیر خارجہ زیپی لیونی اور فلسطین کے سابق وزیر اعظم احمد قریا چاہتے ہیں کہ اناپولس کے اس اجلاس سے قبل کیس دستاویز پر اتفاق ہو جائے۔

اجلاس کی میزبانی صدر بش کریں گے جن کا کہنا ہےکہ مشرق وسطی میں قیام امن میں ان کی ذاتی دلچسپی ہے۔

اس سے قبل شام نے اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔

شام کے نائب وزیرِ خارجہ فیصل مقداد اس کانفرنس میں جو منگل سے شروع ہو رہی ہے، شامی وفد کی نمائندگی کریں گے۔

بات چیت میں یروشلم کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا

شام نے یہ دعوت ان اطلاعات کے بعد قبول کی کہ مذاکرات کے دوران شام اور اسرائیل کے درمیان امن کی بحالی بھی، جس کا مرکز گولان کی پہاڑیاں ہیں، زیرِ بحث آئے گی۔

اس سے قبل شام نے کہا تھا کہ جب تک گولان کی پہاڑیوں کا معاملہ کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا جاتا، وہ واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا۔

اس اجلاس کا مقصد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کا قیام ہے تاکہ فلسطینی ریاست وجود میں آ سکے۔

جمعہ کو سعودی عرب نے اعلان کیا تھا کہ وہ بھی واشنگٹن میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کرے گا۔ اس کانفرنس میں سعودی عرب کی شرکت سے امریکہ کی عرب دنیا کی حمایت کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار جو فلوٹو نے یروشلم سے اپنے مراسلے میں لکھا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ان مذاکرات میں گولان کی پہاڑیوں کا معاملہ کس حد تک زیرِ بحث آئے گا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شام کا وزیرِ خارجہ کی بجائے ان کے نائب کو مذاکرات میں بھیجنے کا فیصلہ اس بات کا عکاس ہے کہ صورتِ حال غیر یقینی کا شکار ہے۔

اسرائیل نے شام کی اس کانفرنس میں شرکت کا خیر مقدم کیا ہے لیکن اس بات پر زور دیا ہے کہ مذاکرات کا محور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان نزاع ہی ہوگا۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں کا معاملہ کانفرنس کے بنیادی ایجنڈے میں شامل نہیں ہوگا۔ البتہ یہ معاملہ زیرِ بحث آنے کا امکان بہر حال موجود ہے۔

اسرائیل نے انیس سو سڑسٹھ میں ہونے والی چھ روزہ جنگ کے دوران گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ شام کی نظر میں یہ پہاڑیاں دفاعی لحاظ سے بہت اہم ہیں اور وہ انہیں کسی بھی امن معاہدے کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد