BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 April, 2008, 12:17 GMT 17:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’یورپ امریکی میزائل نظام پرتیار‘
صدر بش
صدر بش نیٹو اجلاس کے دوران برطانوی وزیراعظم کے ساتھ
نیٹو ممالک نے یورپ میں میزائل کی تنصیب کے امریکی منصوبے کی توثیق کر دی ہے۔

اس منصوبے کے تحت روس کی مخالفت کے باوجود جمہوریہ چیک میں امریکی میزائل ڈیفنس ریڈار لگائے جائیں گے۔

اس بات کا اعلان نیٹو اجلاس کے دوران امریکی اور جمہوریہ چیک کے حکام کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کیا گیا ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ ریڈار امریکہ کی دوسری میزائل دفاعی سہولیات سے منسلک ہوں گے‘۔

نیٹو ممالک نے اس امر پر بھی اتفاق کیا ہے کہ امریکی میزائل نظام کے تحت جن ممالک کی حفاظت ممکن نہیں وہاں نیٹو کے تحت متوازن دفاعی میزائل نظام کی تنصیب کے لیے کوششیں کی جائیں۔

بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ کے نیٹو اتحادیوں نے یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ روس کو اس حوالے سے تعاون پر آمادہ کرنے کے لیے امریکہ سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔

نیٹو اجلاس کے دوران اس بات کا بھی اعلان کیا گیا ہے کہ فی الحال جارجیا اور یوکرین کو چھبیس رکنی تنظیم کی رکنیت کی پیشکش نہیں کی جائےگی۔ روس ان ممالک کی نیٹو میں شمولیت کے حق میں نہیں اور اس کا کہنا ہے کہ نیٹو کی جانب سے سابق سویت ریاستوں سے مستقبل میں رکنیت کا وعدہ ایک ’بڑی سٹریٹجک غلطی‘ ہے۔ جارجیا اور یوکرین کے علاوہ مقدونیہ کو بھی رکنیت نہ دینے کا فیصلہ ہوا ہے تاہم البانیہ اور کروشیا کو اتحاد میں شمولیت کے مثبت اشارے دیے گئے ہیں۔

ادھر رومانیہ میں جاری نیٹو کے دو روزہ سربراہ اجلاس کے دوسرے دن بھی افغانستان کے استحکام کی حکمت عملی پر بحث جاری ہے۔گزشتہ پندرہ ماہ کے دوران افغانستان میں امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کی تعداد تینتیس ہزار سے سینتالیس ہزار ہو چکی ہے۔

News image
نیٹو اجلاس کے دوران اس بات کا بھی اعلان کیا گیا ہے کہ فی الحال جارجیا اور یوکرین کو چھبیس رکنی تنظیم کی رکنیت کی پیشکش نہیں کی جائےگی۔ روس ان ممالک کی نیٹو میں شمولیت کے حق میں نہیں اور اس کا کہنا ہے کہ نیٹو کی جانب سے سابق سویت ریاستوں سے مستقبل میں رکنیت کا وعدہ ایک ’بڑی سٹریٹجک غلطی‘ ہے۔ جارجیا اور یوکرین کے علاوہ مقدونیہ کو بھی رکنیت نہ دینے کا فیصلہ ہوا ہے تاہم البانیہ اور کروشیا کو اتحاد میں شمولیت کے مثبت اشارے دیے گئے ہیں۔

افغان صدر حامد کرزئی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون بھی رومانیہ میں جاری اجلاس میں شریک ہونے والے ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ مزید افواج کا وعدہ اس کے کچھ فوجیوں کو جنوب میں کینیڈین فوجیوں کی مدد کا موقع دے گا۔

کینیڈا نے دھمکی دی ہے کہ اگر دوسرے یورپی ملکوں نے فوجیں نہ بھیجیں تو وہ صوبہ قندھار سے فوجیں بلا لے گا۔فوجیوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے بعد کینیڈا چاہتا ہے کہ ایک ہزار فوجی ہیلی کاپٹروں اور بنا پائلٹ اڑنے والے طیاروں کے ساتھ بھیجے جائیں۔

کانفرنس سے خطاب کے دوران فرانس کے صدر نکولاس سرکوزی نے تقریباً آٹھ سو فوجی بھیجنے کی تصدیق کی ہے لیکن ان کا کہنا تھا ’ایک بٹالین جو مشرقی حصے کے لیے ہو گی‘۔ تاہم افغانستان میں نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل ڈینیل میکنیل ایسے ایک ہزار فوجیوں کا تقاضا کر رہے ہیں جن میں دو جنگجو بریگیڈ اور ایک بریگیڈ تربیتی فرائص انجام دینے والا ہو۔

امریکی صدر بش اجلاس سے قبل بھی اتحادیوں پر زور دے چکے ہیں کہ وہ طالبان کے خلاف جاری جنگ کے لیے مزید فوجیوں کی فراہمی اور اضافی وسائل فراہم کریں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد