حکومتی پارٹی پر پابندی پر غور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی کی آئینی عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ حکومتی جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی (اے کے) پر پابندی لگانے کے کیس کی سماعت کر سکتی ہے۔ چیف پراسیکیوٹر نے پٹیشن دائر کی تھی جس میں الزام عائد کیا ہے کہ اے کے پارٹی سیکولرزم کے مخالفت ہے اور اس جماعت پر پابندی لگانے کی استدعا کی گئی تھی۔ اس پٹیشن میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ اس جماعت کے درجنوں ممبران بشمول وزیر اعظم اور صدر پر پابندی عائد کی جائے۔ اس کیس نے ترکی کی سیکولر انتظامیہ اور اسلامی جماعت اے کے کے مابین جنگ ایک بار پھر شروع کردی ہے۔ اے کے جماعت کے خلاف کیس ایک سو باسٹھ صفحات پر مشتمل ہے اور چیف پراسیکیوٹر کے بقول ان میں ثبوت ہیں کہ اے کے جماعت کا اسلامی ایجنڈا ہے۔ اس پٹیشن میں زور دیا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے سکارف پہننے پر نرمی کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ اے کے جماعت نے حال ہی میں آئین میں تبدیلی کی تھی جس میں سکارف پہننے میں نرمی کی گئی ہے۔ سیکولر قوتوں کا کہنا ہے کہ یہ حکومتی قدم اسلامی ریاست کی طرف پہلا قدم ہے۔ اے کے جماعت کا مؤقف ہے کہ یہ کیس جمہوریت پر حملہ ہے۔ اے کے جماعت نے پچھلے انتخابات میں سینتالیس فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ زیادہ تر رائے عامہ کے جائزے سکارف پر لگی پابندی اٹھائے جانے کے حق میں ہیں۔ ترکی کی آئینی عدالت ان الزامات کی سماعت کرے گی اور یہ قانونی جنگ کئی ماہ چلے گی۔ یہ قانونی جنگ ترکی کے سیاسی افق کو منجمد کرسکتی ہے اور اصلاحات کا عمل سست پڑ سکتا ہے۔ اور عین ممکن ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کو ترکی سے نکالنے کو ترجیح دیں۔ دوسری طرف یورپی یونین نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے ترکی کی اتحاد میں شامل ہونے کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ | اسی بارے میں ترک وزیراعظم: تجویز پر تنقید15 March, 2008 | آس پاس ترکی : حکمران جماعت کی کامیابی 22 July, 2007 | آس پاس ترکی صدارتی انتخابات پھر ناکام 06 May, 2007 | آس پاس ’جلد انتخابات کی منظوری دی جائے‘02 May, 2007 | آس پاس مذہب اور سیاست علیحدہ علیحدہ15 April, 2007 | آس پاس ترک وزیراعظم پر تنقید کا قصہ11 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||