BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 February, 2008, 12:37 GMT 17:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترکی:حجاب کےحق میں آئینی ترامیم
جامعات میں حجاب پہننے پر پابندی انیس سو ستانوے میں لگائی گئی تھی
ترکی کی پارلیمان نے دو آئینی ترامیم منظور کی ہیں جن کے تحت جامعات میں خواتین کے حجاب پہنے پر عائد پابندی میں نرمی کی گئی ہے۔

اس مسئلے پر ترکی میں شدید تقسیم پائی جاتی ہے جہاں ریاست سیکیولر ہے۔ حجاب کے مسئلے پر گزشتہ دنوں بھی احتجاج ہوا اور خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں احتجاج میں شدت آ سکتی ہے۔

سنیچر کو ہونے والی رائے شماری میں پہلی آئینی ترمیم کے حق میں چار سو تین اور مخالفت میں ایک سو سات ووٹ ڈالے گئے۔ سپیکر کوکسل توپتان نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ اس ترمیم کے تحت آئین میں ایک پیرگراف کا اضافہ کیا جائے گا جس میں کہا جائے گا کہ ہر شہری کو سرکاری اداروں کی جانب سے مساوی سلوک کا حق حاصل ہے۔

ارکان پارلیمان نے ایک سو آّٹھ کے مقابلے میں چار سو تین ووٹوں سے جو دوسری ترمیم منظور کی اس کے تحت کہا گیا ہے ’ کسی مرد یا عورت کو اعلیٰ تعلیم کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔‘

پارلیمان میں رائے شماری سے قبل حزب مخالف کی جماعتوں کا کہنا تھا اگر آئین میں ترامیم کی جاتیں ہیں تو وہ انہیں چیلنج کریں گی۔

ان ترامیم کے نتیجے میں جامعات میں صرف روایتی سکارف پہننے کی اجازت ہو گی جسے سر سے لیکر ٹھوڑی تک ڈھیلے انداز میں پہننا ہوگا۔ وہ سکارف جن سے گردن چھپ جائے انہیں پہننا بدستور ممنوع ہوگا اور برقع یا چارد پہنے پر پابندی برقرار رہے گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ سیکیولرازم کا مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ کئی لڑکیاں (جو حجاب پہننا چاہتی ہیں لیکن جامعات میں حجاب پہننے پر پابندی کی وجہ سے وہاں جا نہیں سکتیں) تعلیم سے محروم رہیں۔

لیکن سیکولر ادارے، فوج اور دانشور سمجھتے ہیں کہ حجاب پہننے سے یہ ہوگا کہ عام زندگی میں بھی اسلام کے اثرات نمایاں ہونے شروع ہو جائیں گے۔

اسلامی بنیاد کی حامل حکمران اے کے پارٹی کو پارلیمان میں اسے محفوظ اکثریت حاصل ہے۔ آئین میں ترمیم کی تجاویز بدھ کو پارلیمان میں منظور کر لی گئی تھیں اور حتمی ووٹ کے لیے سنیچر کا دن مقرر کیا گیا تھا۔

ترکی کی یونیورسٹیوں میں سر پر حجاب اوڑھنے پر انیس سو ستانوے سے کڑی پابندی ہے۔ یہ پابندی اس وقت لگی تھی جب سیکیولر فوج نے تب کی حکومت کو زیادہ اسلام پسند سمجھتے ہوئے اس پر دباؤ ڈالا تھا۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد