ترکی حجاب:حتمی ووٹ کی منظوری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی کی پارلیمان نے یونیورسٹیوں میں خواتین کے حجاب پہننے کی پابندی کے معاملے پرحتمی ووٹ کرانے کی حکومتی تجویز منظور کر لی ہے۔ ترکی کے اعلی تعلیمی اداروں میں خواتین کو حجاب پہننے کی اجازت نہیں ہے اور موجودہ حکومت اس قانون میں نرمی لانا چاہتی ہے۔ یونیورسٹیوں میں خواتین پر حجاب پہننے کی پابندی انیس سو اسی میں فوج کے اقتدار سنبھالنے کے بعد لگائی گئی تھی۔ اس پابندی کا مقصد ترکی میں سیکیولر اصولوں کو مستحکم کرنا تھا۔ تاہم اس قانون کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے ان خواتین کو تعلیم سے محروم رہنا پڑتا ہے جو حجاب پہنتی ہوں لہذا یہ غیر منصفانہ ہے۔
بدھ کو ہونے والی ووٹنگ میں ایک سو تیرہ ووٹ تبدیلی کے خلاف جبکہ تین سو ستانوے اس کے حق میں پڑے۔ ہفتے کو اس سلسلے میں حتمی ووٹنگ ہوگی۔ ترک حکومت چاہتی ہے کہ خواتین کو سر پر سادے سا سکارف پہننے کی اجازت ہو لیکن بیتہشا کپڑے والے برقعے اور نقاب کی اجازت نہ دی جائے۔ اگر حکومت کو اپوزیشن کی ایک قوم پرست جماعت کی حمایت حاصل ہو تو اس کے پاس اتنے ووٹ ہیں کہ وہ اس پابندی میں یہ نرمی لا سکتی ہے۔ تاہم ترکی کی سیکیولر جماعت رپبلکن پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ اس ترمیم کے خلاف آئینی عدالت میں جائے گی۔ | اسی بارے میں حجاب پر پابندی نرم کرنے کا منصوبہ29 January, 2008 | آس پاس حجاب، تشدد اور اسلام زیرِبحث17 December, 2007 | آس پاس کینیڈا میں حجاب کا قومی دن27 October, 2007 | آس پاس مسلمان طالبہ نقاب کا مقدمہ ہار گئی 22 February, 2007 | آس پاس ہالینڈ: برقع پابندی پرسخت تنقید 18 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||