حجاب پر پابندی نرم کرنے کا منصوبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی کی دو اہم سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ پارلیمان میں ایک مشترکہ منصوبہ پیش کریں گی جس کے تحت ملکی جامعات میں حجاب پر پابندی کو نرم کیا جائے گا۔ اسلامی نظریات کی حامل حکمران جماعت اور قوم پرست ایم ایچ پی پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ انسانی حقوق اور شخصی آزادی کا معاملہ ہے۔ ترک پارلیمان میں بھی ان دونوں جماعتوں کے اتنے ارکان موجود ہیں کہ وہ حجاب پر عائد آئینی پابندی کا خاتمہ کر سکیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایم ایچ پی کے رہنما دولت باحصلی کے حوالے سے کہا ہے کہ مشترکہ منصوبہ منگل کو پارلیمان میں پیش کر دیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت عوام کو روایتی حجاب کی اجازت دی جائے گی تاہم سیاسی اسلام کی نشانی سمجھا جانے والے ’مکمل حجاب‘ پر پابندی برقرار رہے گی۔دولت باحصلی کے مطابق ’اس منصوبے کے تحت، (حجاب میں) چہرہ ہر صورت میں کھلا رہے گا تاکہ اس سے شناخت چھپانے میں مدد نہ مل سکے‘۔ تاحال فوج کی جانب سے اس فیصلے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ترکی میں فوج خود کو کمال اتاترک کے سیکولر ترکی کا محافظ مانتی ہے اور سنہ 1980 میں سیکولر مزاج کی حامی فوج کی جانب سے بغاوت کے بعد ہی ترکی میں سکولوں اور جامعات میں حجاب پہننے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ | اسی بارے میں مسلمان طالبہ نقاب کا مقدمہ ہار گئی 22 February, 2007 | آس پاس ’سیاسی اسلام سے تمام رشتے توڑ لیے‘ 29 August, 2007 | آس پاس حجاب، تشدد اور اسلام زیرِبحث17 December, 2007 | آس پاس ہالینڈ: برقع پابندی پرسخت تنقید 18 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||