جنگ عظیم اول کے آخری سپاہی کا انتقال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی کی جانب سے پہلی عالمی جنگ میں حصہ لینے والے آخری جرمن فوجی ارک کیستنر 107 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ ارک کیستنر کو 18 برس کی عمر میں جرمنی کے مغربی فرنٹ پر تعینات کیا گیا تھاجہاں انہوں نے چار ماہ کے لیے فوج میں کام کیا تھا۔ اتوار کے روز فرانس کے دوسرے عالمی جنگ کے فوجی لوئی دی کیزینیوا کے موت کی خبر پوری دنیا کی میڈیا میں چھائی تھی لیکن 1 جنوری کو اس دنیا کو الوداع کہنے والے ارک کیستنر کی موت کو بہت حد تک کوئی توجہ نہیں ملی۔ کیستنر کے فرزند پیٹر کیستنر کا کہنا تھا ’جرمنی کی تاریخ کچھ ایسی ہی ہے کہ ان سب باتوں پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے اور ان کے لیے آخری فوجی کے مرنے کی بات کوئی بڑی بات نہیں ہے۔‘ جرمنی کے ڈائی ویلٹ ڈیلی اور ڈیر اسپیگل میگزین نے کیستنر کو پہلی عالمی جنگ میں لڑنے والے آخری فوجی مانا ہے لیکن اس بات کی باقاعدہ تصدیق کرنا مشکل ہے کیونکہ جرمنی کے پاس جنگ میں حصہ لینے والوں کا کوئی خاص ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں نازیوں کے ظلم اور دو عالمی جنگوں کی کڑوی تاریخ آج بھی اپنا اثر چھوڑتی ہے، دونوں اخبارات نے کیستنر کی موت سے زیادہ جرمنی کی قومی جزبات پر دھیان دیا ہے۔ کیستنر سنہ 1900 میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے 1918 میں فوج میں داخل ہونے کے لیے اسکول چھوڑ دیا تھا۔ 1939 میں لفتوافے کے پہلے لفٹینٹ کے طور پر وہ دوبارہ فوج میں شامل ہوئے۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد انہوں نے ہینوور میں جج کا عہدہ سنبھالا جہاں انہیں ’لوور سیکسونی کامیرٹ کراس‘ اعزاز سے نوازا گیا۔ |
اسی بارے میں کابل بم حملے میں تین جرمن ہلاک15 August, 2007 | آس پاس جی ایٹ: اجلاس اختلافات کا شکار07 June, 2007 | آس پاس جرمن انتخابات: مقابلہ سخت ہے17 September, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||