کابل بم حملے میں تین جرمن ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک قافلے پر بم حملے کے نتیجے میں جرمنی کے تین شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ جرمنی کی وزارتِ دفاع نے ان شبہات کی تردید کی ہے کہ کابل میں ہلاک ہونے والے تینوں شہری افغانستان میں موجود جرمن فوج کے اہلکار تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں افراد پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ تھے یا ان کا تعلق جرمن سفارتخانے کی حفاظت کے لیے کابل میں موجود فیڈرل پولیس کے دستے سے تھا۔ دھماکے کے لیے استعمال ہونے والا بم اسی ساخت کا تھا جو افغانستان میں مزاحمت کاروں کے حملوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ جرمن قافلے پر بم حملہ اس وقت ہوا جب وہ کابل سے دس کلومیٹر باہر جلال آباد روڈ سے گزر رہا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے کچھ دیر بعد امدادی ہیلی کاپٹر اس مقام پر پہنچ گئے اور لاشوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
کابل پولیس میں شعبۂ تفتیش کے سربراہ علی شاہ پاکتیاوال نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اس بم حملے میں تین افراد ہلاک اور ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ کابل میں جرمن سفارتخانے نے فی الوقت اس بم حملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ نیٹو فوج نے بم دھماکے کی تصدیق تو کی ہے تاہم اس میں مرنے یا زخمی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ طالبان نے حال ہی میں کابل میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کی دھمکی دی تھی۔ گزشتہ ماہ طالبان نے وردک صوبے سے دو جرمن شہریوں کو اغواء کر لیا تھا۔ مغویوں میں سے ایک کی لاش اکیس جولائی کو مل گئی تھی تاہم دوسرے مغوی کے بارے میں یہی خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ابھی تک زندہ ہے اور طالبان کی تحویل میں ہے۔ افغانستان میں جرمنی کے تقریباً 3000 فوجی تعینات ہیں۔ | اسی بارے میں دو خواتین مغویوں کو رہا کر دیا گیا13 August, 2007 | آس پاس ان گِلے شکووں کا کیا ہوا12 August, 2007 | آس پاس افغانستان: کوریائی ہلاک، جرمن رہا25 July, 2007 | آس پاس ’مرنے والے شاید شہری ہی تھے‘01 July, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||