’ فوجیوں کےاعضاء ہمارے پاس ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اللہ کے رہنما شیخ حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ ان کے مسلح گروپ کے پاس ان اسرائیلی فوجیوں کے اعضاء ہیں جو سنہ 2006 کی لڑائی میں لبنان میں ہلاک ہوئے تھے۔ عاشورہ کے موقع پر ایک سال بعد اپنی پہلی عوامی تقریب میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اسرائیلی فوجیو کے ہاتھوں اور پیروں کے علاوہ ایک تقریباً مکمل لاش بھی موجود ہے۔ سنیچر کو جنوبی بیروت میں محافظوں کے گھیرے میں جب نصراللہ نمودار ہوئے تو ان کے حامیوں نےاسرائیل اور امریکہ مخالف نعرے لگاتے ہوئے ان کا خیر مقدم کیا۔ حزب اللہ ٹیلی وثرن المنار کا کہنا ہے کہ اس اجتماع میں دس لاکھ لوگوں نے شرکت کی تھی۔ شیخ نصر اللہ نے ہجوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے جنگجو صہونی طاقتوں کے خلاف لڑ رہے ہیں اور انہیں مار کر ان کےاعضاء جمع کر رہے ہیں‘۔ اسرائیلی فوج نے 2006 میں حزب اللہ کے خلاف ایک بڑی کارروائی شروع کی تھی۔ چونتیس دن تک چلنے والی یہ لڑائی لبنان میں سرگرم حزب اللہ کی دراندازی کے ساتھ شروع ہوئی تھی جنہوں نے آٹھ اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور دو کو اغوا کر لیا تھا۔ اس لڑائی میں بارہ سو افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں شہری ، حزب اللہ جنگجو اور 160 اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں میں زیادہ تر فوجی تھے۔ اسرائیلی فوجیوں کے اعضاء کو پہلے بھی قیدیوں کی رہائی کے عوض استعمال کیا جا چکا ہے ۔ شیخ نصر اللہ آخری مرتبہ ستمبر 2006 میں لڑائی کے بعد لوگوں کے سامنے آئے تھے اور اس لڑائی میں حزب اللہ نے فتح کا اعلان کیا تھا لڑائی کے دوران نصر اللہ اسرائیلیوں کی جانب سے مارے جانے کی دھمکیوں کے بعد روپوش ہو گئے تھا۔ | اسی بارے میں حزب اللہ: حقیقی قوت کا راز 23 July, 2006 | آس پاس لڑائی خطرناک موڑ پر22 July, 2006 | آس پاس اسرائیلی کارروائی کی مذمت22 July, 2006 | آس پاس وویک راج نے لبنان میں کیا دیکھا؟ 21 July, 2006 | آس پاس بیروت ہڑتال: تین ہلاک، سو زخمی22 January, 2007 | آس پاس بیروت: جھڑپوں کے بعد کرفیو26 January, 2007 | آس پاس امریکی منصوبے ناکام: حزب اللہ29 July, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||