بیروت: جھڑپوں کے بعد کرفیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں متشدد فرقہ ورانہ جھڑپوں کے بعد رات بھر کا کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ حکومت کی مخالفت اور حمایت کے نتیجے میں لبنان کی مسلمان آبادی کا ایک بڑا حصہ شیعہ اور سنی گروہوں میں بٹ گیا ہے۔ منگل کے روز ہڑتال کے دوران بیروت میں تشدد کے واقعات میں تین افراد ہلاک اور ایک سو زخمی ہو گئے تھے۔ ان جھڑپوں کی ابتدا بیروت کی عرب یونیورسٹی میں طلبا تنظیموں کے درمحیان تصادم سے ہوئی تھی اور جلد ہی یہ تصادم اردگرد کے علاقوں میں بھی پھیل گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک چار افراد ہلاک اور ڈیڑھ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں اور ہوائی فائرنگ کے بعد بظاہر امن بحال ہو چکا ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم فواد سنیورا کے استعفے تک یہ مظاہرے جاری ہیں گے۔ اس سے قبل کی اطلاعات کے مطابق بیروت عرب یونیورسٹی میں حکومت کی حامی اور مخالف طلباء تنظیموں کے درمیان ہونے والے تصادم میں کم سے کم دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یونیورسٹی کیمپس سے شروع ہونے والا یہ تصادم بعد میں مشتعل ہجوم نے گاڑیوں کو آگ لگائی تو لبنانی فوج سڑکوں پر نکل آئی اور لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی۔ حزب اللہ کے حسن نصراللہ سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں نے لوگوں کو پر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔ | اسی بارے میں اسرائیلی فوجیوں کی رہائی کا مطالبہ13 January, 2007 | آس پاس لبنان: ٹربیونل کی تجویز مسترد10 December, 2006 | آس پاس قتل کا مقدمہ: عالمی ٹریبونل منظور 25 November, 2006 | آس پاس لبنان: بیار الجمیل کے قتل پر سوگ22 November, 2006 | آس پاس سیاسی قتل پر لبنان سوگوار22 November, 2006 | آس پاس لبنان: رفیق حریری ٹریبونل کی توثیق14 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||