BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 December, 2007, 04:00 GMT 09:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یورپ: سرحدوں کے خاتمے کا جشن
ہنگری اور آسٹریا کے حکام
ہنگری اور آسٹریا کے حکام جمعہ کی رات کو دونوں ممالک کی سرحد سے رکاوٹ ہٹا رہے ہیں
نو مزید یورپی ملکوں کے جمعہ کو شینگن معاہدے میں شریک ہو نے سے یورپ میں اب چوبیس ممالک کے درمیان سرحدی پابندیاں ختم ہو گئی ہے۔ آسٹریا اور سلوواکیا کی سرحد پر چوکیوں کے خاتمے کی تقریب یورپ میں جمعہ کو ہونے والی ایسی بہت سی تقاریب میں سے ایک تھی۔

سلوواک وزیر اعظم رابرٹ فکو اور آسٹریائی چانسلر ایلفرڈ گسنبائر نے آری سے سرحد پر رکاوٹ کاٹ کر اپنے ممالک کی سرحد کے آر پار سفر کا راستہ کھول دیا۔

’آزادی کی سرحدیں‘
 آج آدھی رات سے آپ ایسٹونیا سے پرتگال تک چار ہزار میل کا سفر بغیر سرحدی پابندیوں کا سامنا کیے کر سکتے ہیں۔
سلوواک وزیر اعظم
اسی طرح کی تقاریب ہنگری، سلوینیا، چیک رپبلک، پولینڈ اور بالٹک ریاستوں میں بھی منعقد ہوئیں۔

جمعہ سے ایسٹونیا، ہنگری، لیٹویا، لِتھُو اینیا، مالٹا، پولینڈ، سلوواکیا، سلووینیا، اور چیک رپبلک شینگن کے علاقے کا حِصّہ بن رہے ہیں۔

ابتدائی طور سرحدی پابندیاں صرف زمینی اور بحری راستوں پر ختم ہوں گی اور مارچ دو ہزار آٹھ سے ان کا اطلاق ہوائی اڈوں پر بھی ہو جائے گا۔

آسٹریا کے چانسلر نے اس موقع پر ان خدشات کورد کیا کہ سرحدی پابندیاں اٹھنے سے ان کے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نئے معاہدے سے ’سلامتی اور استحکام کے خطے میں اضافہ ہوگا جس سے آسٹریا کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ سوواک وزیر اعظم نے کہا کہ ’آج آدھی رات سے آپ ایسٹونیا سے پرتگال تک چار ہزار میل کا سفر بغیر سرحدی پابندیوں کا سامنا کیے کر سکتے ہیں‘۔

یورپی کمیشن نے کہا کہ یورپی یونین کی نئی حدود کی حفاظت کے لیے ایک ارب یورو خرچ کیے گئے ہیں۔

یورپی یونین سے باہر ممالک کے شہری شینگن ویزہ حاصل کر کے ان تمام ممالک میں جا سکتے ہیں۔

شینگن معاہدے کی خاص بات ’شینگن انفارمیشن سروس‘ ہے جس کے تحت فرانس کے شہر سٹراسبورگ میں معلومات جمع کرنے کا انتہائی بڑا مرکز قائم کیا گیا ہے جو شینگن کے رکن ممالک میں سے کسی بھی ایک کی پولیس کو یہ بتا سکتا ہے کہ کیا کوئی مشتبہ شخص چوبیس میں سے کسی بھی ملک میں کسی جرم میں ملوث رہا ہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد