BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی حکومت فلوجہ میں’ناکام‘
 امریکی افواج
امریکی افواج پہلی مرتبہ سنہ 2004 میں فلوجہ میں داخل ہوئی تھیں
عراقی شہر فلوجہ کے میئر کا کہنا ہے کہ عراقی حکومت کے شیعہ حکام اب بھی اس شہر کو سنّی مزاحمت کاروں کا گڑھ سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مرکزی حکومت شہر کو فنڈز فراہم کرنے میں تامل سے کام لے رہی ہے۔

فلوجہ کے میئر سعد عواد کا کہنا ہے کہ دو ہزار ارکان پر مشتمل شہر کی پولیس فورس وسائل کی شدید کمی کا شکار ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سعد عواد کا کہنا تھا کہ’فلوجہ کو استحکام اور سکیورٹی کے حوالے سے دیگر عراقی شہروں کے لیے مثال بنانے کی باتیں ہوتی ہیں لیکن ہماری کاوشیں کمزور پڑ رہی ہیں کیونکہ یہ حکومت ہماری مدد نہیں کرتی‘۔

انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ محدود وسائل کی وجہ سے شہر کی پولیس امریکیوں کے چلے جانے کے بعد امن و امان قائم رکھنے میں ناکام رہے گی۔ انہوں نے کہا’ ہم کچھ انوکھی خواہش نہیں کر رہے۔ ہمیں صرف روایتی ہتھیاروں اور گاڑیوں کی ضرورت ہے۔ عوام کو ہلاک رکنے والی مسلح ملیشیا کے مقابلے کے لیے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے‘۔

فلوجہ میں امریکی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ اس حوالے سے شہر کے میئر کے خدشات بے جا نہیں ہیں۔ کرنل رچرڈ سمکاک نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ فوری طور پر فلوجہ میں تعینات پانچ ہزار میرینز کو وہاں سے منتقل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ’ دشمن نے ہار نہیں مانی، وہ کوشش کر رہا ہے لیکن ناکام ہو رہا ہے‘۔

فلوجہ سنّی اکثریتی عراقی صوبے انبار کا دوسرا بڑا شہر ہے اور اسے ایک وقت میں امریکی افواج کے خلاف سرگرم سنّی مزاحمت کاروں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ امریکی افواج پہلی مرتبہ سنہ 2004 میں اس شہر میں اس وقت داخل ہوئی تھیں جب ایک مشتعل ہجوم نے تین امریکی ٹھیکیداروں کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں شہر کی گلیوں میں گھسیٹی تھیں۔

بعد ازاں 2004 میں ہی امریکی افواج نے اس علاقے میں سنّی مزاحمت کاروں کے خلاف ایک آپریشن کیا تھا جس کے دوران شہر کی بیشتر حصہ تباہ ہو گیا تھا۔ اس آپریشن کے دوران شہر کے ہزاروں باسی اس لیے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے تھے کیونکہ امریکی افواج نے کہا تھا کہ جو بھی شہر میں رہے گا اسے مزاحمت کاروں کا ساتھی یا ہمدرد سمجھا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد