الجزائر بم دھماکے، القاعدہ کا دعویٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الجزائر میں منگل کو ہونے والے دو خود کش کار بم دھماکوں کی ذمہ داری القاعدہ کی شمالی افریقہ کی شاخ نے قبول کر لی ہے۔ اس دھماکے میں باسٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ایک ویب سائٹ پر شائع ہونے والے القاعدہ سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دھماکے تنظیم کی شمالی افریقہ کی شاخ سے تعلق رکھنے والے دو خود کش بمباروں عبد الرحمان العاصمی اور ابراہیم ابو عثمان نے کیے تھے۔ اس ویب سائٹ پر ان دونوں خود کش بمباروں کی تصویر بھی شائع کی گئی ہیں۔ دریں اثنا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ان دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مشن پر ہونے والے ان دھماکوں سے انہیں شدید صدمہ پہنچا ہے۔ الجزائر میں حکام کا کہنا تھا ہے کہ دارالحکومت الجزیرہ میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں کم از کم باسٹھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔اطلاعات کے مطابق پہلا دھماکہ شہر کے مرکز میں آئینی عدالت کے نزدیک ہوا۔ جس کے کچھ دیر بعد حیدرہ کے علاقے میں اقوامِ متحدہ کے دفاتر کے نزدیک دوسرا دھماکہ ہوا۔ الجزائر کی وزارتِ داخلہ نے بائیس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی تھی لیکن آزاد ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد سرکاری بیان سے کہیں زیادہ ہے۔اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مرنے والوں میں اس کے دس اہلکار شامل ہیں۔ الجزائر کے وزیر داخلہ یزید زہرونی نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان دھماکوں کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ ہے۔ دھماکوں کے بعد الجزائر کے وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا ہے کہ دھماکے دو کاروں میں نصب بموں کے پھٹنے کی وجہ سے ہوئے۔ | اسی بارے میں الجزائر میں بم دھماکہ08 September, 2007 | آس پاس الجزائر: خودکش حملہ، پندرہ ہلاک07 September, 2007 | آس پاس الجزائر میں دھماکے، 23 ہلاک11 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||