BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 December, 2007, 11:59 GMT 16:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الجزائر بم دھماکے، باسٹھ ہلاک
الجزائر میں دھماکے
خدشہ ہے کہ تباہ شدہ عمارت میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں
الجزائر میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت الجزیرہ میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں کم از کم باسٹھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پہلا دھماکہ شہر کے مرکز میں آئینی عدالت کے نزدیک ہوا۔ جس کے کچھ دیر بعد حیدرہ کے علاقے میں اقوامِ متحدہ کے دفاتر کے نزدیک دوسرا دھماکہ ہوا۔

الجزائر کے وزیرِ داخلہ یزید زہرونی کا کہنا ہے کہ دھماکے دو کاروں میں نصب بموں کے پھٹنے کی وجہ سے ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ’بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے ہیں‘۔

حیدرہ میں ہونے والے دھماکے سے متاثر ہونے والے اقوامِ متحدہ کے ایک کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے سے عمارت کا ایک حصہ تباہ ہو گیا اور خدشہ ہے کہ تباہ شدہ عمارت میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے حکام نے دھماکوں سے عمارت کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے ترجمان ران ریڈمنڈ نے کہا ہے کہ’ادارہ برائے پناہ گزین کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے اور لاپتہ افراد کے بارے میں جاننے کے لیے ملازمین کی گنتی کی جار ہی ہے۔

 بی بی سی کے نامہ نگار راجر ہارڈی کے مطابق یہ بات واضح نہیں کہ یہ گروپ اسامہ بن لادن سے تعلق رکھتا ہے یا صرف ان سے متاثر ہے۔ مغربی ماہرین اور شمالی افریقی ممالک کی حکومتیں ان خدشات کا شکار ہیں کہ کہیں یہ انتہا پسند اسلامی گروہ بین الاقوامی نیٹ ورک کا حصہ نہ بن جائیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق آئینی عدلیہ کی عمارت کے قریب ہونے والے دھماکے کے ہلاک شدگان میں طلباء کا ایک گروہ شامل ہے۔

تاحال کسی تنظیم یا فرد نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ سالِ رواں کے دوران الجزائر کے مختلف علاقوں میں متعدد دھماکے ہو چکے ہیں جن میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ صرف ماہِ ستمبر میں ہی خود کش حملوں میں پچاس کے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔

الجزائر میں ہونے والے حالیہ دھماکوں کی ذمہ داری شمالی افریقہ میں القاعدہ کے سرگرم ارکان قبول کرتے رہے ہیں۔ یہ گروپ پہلے سلفی گروہ برائے تبلیغ و جہاد کے نام سے جانا جاتا تھا تاہم القاعدہ کا ساتھ دینے کے بعد اس نے اپنے آپ کو القاعدہ کے نام سے متعارف کروانا شروع کر دیا تھا۔


بی بی سی کے نامہ نگار راجر ہارڈی کے مطابق یہ بات واضح نہیں کہ یہ گروپ اسامہ بن لادن سے تعلق رکھتا ہے یا صرف ان سے متاثر ہے۔ مغربی ماہرین اور شمالی افریقی ممالک کی حکومتیں ان خدشات کا شکار ہیں کہ کہیں یہ انتہا پسند اسلامی گروہ بین الاقوامی نیٹ ورک کا حصہ نہ بن جائیں۔
اسی بارے میں
الجزائر میں بم دھماکہ
08 September, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد