الجزائر: خودکش حملہ، پندرہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الجیریا میں ایک خودکش بم دھماکے میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک جبکہ 75 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ خودکش دھماکہ دارالحکومت الجزائر سے تقریباً چار سو پچاس کلو میٹر مشرق میں بٹنہ قصبے میں ایک پر ہجوم مقام پر ہوا۔ الجیریا کے صدر عبدالعزیز بوتفليقہ اس قصبے کا دورے کرنے والے تھے جس کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس جگہ ان کے استقبال کے لیے موجود تھی۔ تاحال کسی گروہ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن الجزائر کے صدر نے اسلامی شدت پسندوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان کی قومی یکجہتی کی پالیسی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا مقصد فوج اور ایک اسلامی ریاست کے قیام کے خواہش مندگروہوں کے درمیان پندرہ سال سے جاری لڑائی کو ختم کرنا ہے۔ اپریل میں دارالحکومت الجزائر میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں تئیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ مغربی عرب ممالک میں خود کو القاعدہ کہنے والی ایک تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
بعد ازاں صدر نے مقامی ہسپتال میں داخل دھماکے میں زخمی ہونے والے کچھ افراد سے ملاقات کی۔ الجزائر میں تنازعے کا آغاز 1992 میں اس وقت ہوا جب اس سال ہونے والے عام انتخابات میں اسلامی رحجان کی حامل ایک سیاسی جماعت کی کامیابی کے بعد ان انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ بعدازاں اس تنازعے نے خانہ جنگی کی صورت اختیار کرلی جس میں ڈیڑھ لاکھ افراد مارے گئے۔ اس سال کے آغاز میں خود کو القاعدہ کہنے والی ایک تنظیم سلفی گروپ فار پریچنگ اینڈ کامبیٹ (جی ایس پی سی) کے از سر نو متحرک ہونے کے بعد سے الجزائر سمیت شمالی افریقہ میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ |
اسی بارے میں الجزائر میں دھماکے، 23 ہلاک11 April, 2007 | آس پاس عام معافی پر الجزائر میں ریفرنڈم29 September, 2005 | آس پاس الجزائر کے سفارت کاروں کا قتل 28 July, 2005 | آس پاس عراق: الجزائر کےسفارت کار اغوا21 July, 2005 | آس پاس سفارت کار کے بیٹے کی ’خودکشی‘15 October, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||