کولمبو: دو دھماکوں میں اٹھارہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں فوجی حکام نے بتایا ہے کہ شہر میں ایک بم دھماکے میں کم سے کم سولہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ کولمبو کے ایک مصروف علاقے نُگیوگوڈا میں ہونے والے اس دھماکے میں کم سے کم بیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس بم دھماکے سے چند ہی گھنٹے قبل ایک خود کش حملے میں ایک عورت سمیت دو افراد ہلاک ہو گئے۔ خود کش بمبار ایک عورت تھی جس نے خود کو اس وقت اڑا دیا جب اسے وزیرِ بہبود کے دفتر میں داخل ہونے سے روکا گیا۔ حملے میں وزیر بہبود ڈگلس دیوانندا محفوظ رہے۔ فوجی حکام کے مطابق بم دھماکہ نُگیوگوڈا کے علاقے میں واقع کپڑوں کی ایک دکان کے باہر اس وقت ہوا جب دکان میں کام کرنے والے سکیورٹی گارڈ نے ایک مشکوک پارسل کو کھولنے کی کوشش کی۔ حکام نے ان دونوں حملوں کا الزام تامل ٹائیگرز پر لگایا ہے۔ واضح رہے کہ یہ حملے تامل ٹائیگرز کے رہنماء ولوپلائی پربھاکرن کے اس بیان کے بعد ہوئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کے ساتھ امن کی امید بہت کم رہ گئی ہے۔ ملک کے شمالی حصے میں تامل ٹائیگرز اور سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی میں گزشتہ عرصے میں تیزی آ چکی ہے۔ تامل ٹائیگرز کا کہنا ہے کہ فوج نے منگل کو بھی دو حملے کیے تھے جس میں بیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ واضح رہے کہ وزیر بہود ، جو کہ خود کش حملے کا ممکنہ نشانہ تھے، کا تعلق ایلم پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے اور اس جماعت کو باغی تامل ٹائیگرز کا بڑا مخالف سمجھا جاتا ہے۔ خود کش حملے میں وزیر کی سیکرٹری اور دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے تھے جن میں سے سیکرٹری اور ایک اہلکار بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک سینئر پولیس اہلکار نے کہا کہ ’یہ ایک خود کش حملہ تھا جو کہ لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلم نے کیا تھا۔ حملہ آور باغی عورت کی لاش جائے وقوع پر موجود ہے۔‘ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور خاتون اپاہج تھی اور وہ حملے کی غرض سے سرکاری دفتر کے باہر کھڑے لوگوں میں گھل مل گئی تھی۔ دریں اثناء تامل ٹائیگرز کے رہنماء ولوپلائی پربھاکرن نے اپنی ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ ملک کے شمالی علاقے کے ساتھ، جہاں سنہالہ لوگوں کی اکثریت ہے، قیام امن کی کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے سری لنکا کی مرکزی حکومت کو ’قتل و غارت کرنے والے لوگوں‘ سے تعبیر کیا اور کہا کہ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ معاشی اور فوجی امداد دیکر ایسی حکومت کے ہاتھ مضبوط نہ کرے۔ ’ وہ لوگ جو تامل قوم کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ان کا انجام تباہی ہوگا۔‘ سری لنکا کے شمالی علاقوں میں سنہ انیس سو تراسی سے جاری خانہ جنگی میں کم سے کم ستر ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔ | اسی بارے میں سری لنکا: لڑائی، چھ فوجی ہلاک16 October, 2007 | آس پاس سری لنکا: جھڑپوں میں 10 ہلاک05 May, 2007 | آس پاس سری لنکا: باغیوں کا فضائی حملہ29 April, 2007 | آس پاس سری لنکا: فوجی اڈے پر حملہ25 March, 2007 | آس پاس ’خود کش حملوں میں سری لنکا آگے‘15 February, 2007 | آس پاس سری لنکا: بس میں دھماکہ، 15 ہلاک06 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||