’خود کش حملوں میں سری لنکا آگے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا میں ایک حکومتی عہدیدار نے ’تامل ٹائیگر‘ کے خلاف فوجی آپریشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس باغی گروہ کی وجہ سے علاقے میں خود کش حملوں کی تعداد مشرقِ وسطیٰ سے زیادہ ہے۔ نائب وزیر خارجہ پلیتھا کوہونا کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت ’دہشت گردوں‘ کے خلاف اسی طرح کارروائی جاری رکھے گی۔ ’دنیا کا کوئی بھی ملک دہشت گردوں کے ساتھ نرمی کا رویہ نہیں رکھ سکتا‘۔ سری لنکا کے صدر مہندا راجپکشے کے دورہِ چین سے پہلے بیجنگ میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تامل تنازعہ کے حل کے لیے ناروے کی کوششیں ابھی ختم نہیں ہوئیں۔ سری لنکا میں انیس سو تراسی میں زور پکڑنے والے اس تنازعہ میں اب تک ساٹھ ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ | اسی بارے میں سری لنکا: حملے میں 15 ہلاک02 January, 2007 | آس پاس سری لنکا میں خانہ جنگی جاری 10 November, 2006 | آس پاس سری لنکا: فوجی بس میں 90 ہلاک16 October, 2006 | آس پاس بحری جھڑپ: 70 باغی ہلاک25 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||